خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 568 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 568

568 خطبہ جمعہ فرموده 4 دسمبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم بہتر ٹھہراؤں )۔میں پوشیدگی کے حجرہ میں تھا اور کوئی مجھے نہیں جانتا تھا اور نہ مجھے یہ خواہش تھی کہ کوئی مجھے شناخت کرے۔اس نے گوشہ تنہائی سے مجھے جبر انکالا۔میں نے چاہا کہ میں پوشیدہ رہوں اور پوشیدہ مروں۔مگر اس نے کہا کہ میں تجھے تمام دنیا میں عزت کے ساتھ شہرت دوں گا۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 153 پس خدا تعالیٰ کا یہ طریق ہے کہ جب کسی کو اپنے نور سے سجاتا ہے تو تمام دنیا میں اس کا اظہار بھی کروا دیتا ہے۔ایک انسان کی بنائی ہوئی عام روشنی بھی جہاں روشنی ہو وہاں اپنا نشان ظاہر کر رہی ہوتی ہے تو خدا تعالیٰ کے نور کو کس طرح چھپایا جا سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ یہ ٹو جب اپنے بندے کو دیتا ہے اور جب یہ اعلان فرما دیتا ہے کہ اس کا ثوریعنی اللہ تعالیٰ کا نو ر تمام زمین و آسمان پر حاوی ہے تو اس سے یہ بھی مراد ہے کہ جو روحانی ٹو ر اللہ تعالیٰ کے خاص فیض سے اس کے خاص بندوں پر آسمان سے اترا ہے اب اس کے فیض عام کا بھی سلسلہ جاری ہو گیا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے ان خاص بندوں سے جڑ جاؤ تو یہ ٹور پھر تمہارے دلوں کو بھی روشن کر دے گا۔چاہے چھوٹے چھوٹے طاق بنیں۔چاہے چھوٹے چھوٹے گلوب ہوں۔چاہے اس کی روشنی کو پھیلانے کی ایک عام مومن کی استعدادوں کے مطابق کوئی حد مقرر ہولیکن جو جڑیں گے وہ پھر اس نور سے حصہ پاتے ہوئے آگے بھی ٹور کو پھیلانے والے بنتے جائیں گے۔لیکن اللہ تعالیٰ کا نُور جب کسی انسان تک پہنچتا ہے، کسی مومن تک پہنچتا ہے اگر اس نے حقیقی نور حاصل کیا ہے تو وہ اس تک پہنچ کر اسے فیضیاب کرتے ہوئے دوسروں کو فیض پہنچانے کا باعث ضرور بنتا ہے۔پس اس کے حاصل کرنے اور اس سے زیادہ سے زیادہ فیضیاب ہونے کے لئے خدا تعالیٰ کے محبوب ترین کا اسوہ اختیار کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔عبادات میں ، اخلاق میں ، عادات میں جب اس شوق سے اس اسوہ کو اختیار کرنے کی کوشش اور سوچ ہوگی اور آنحضرت ﷺ کی کامل اطاعت اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہوگی تو اس کا اعلان خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ سے قرآن کریم میں یوں کروایا ہے کہ قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله ( آل عمران : 32) کہ کہہ دے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو۔اللہ تعالیٰ بھی پھر تم سے محبت کرے گا۔پس یہ محبت تھی جو صحابہ نے آپ سے کی تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کے نور سے منور ہو گئے اور یہی محبت ہے جو اس زمانے میں حقیقی رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آنحضرت ﷺ سے کی ہے۔تو آپ خدا تعالیٰ کے محبوب بن کر اس زمانہ میں نور پھیلانے کا اعزاز پانے والے بن گئے۔پس آج اگر کسی کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کا دعویٰ ہے تو مسیح موعود سے تعلق جوڑنا بھی ضروری ہے۔یہ بھی خدا تعالیٰ کے حکموں میں سے ہے اور یہی رسول اللہ ﷺ کے حکموں میں سے ہے۔آج جماعت احمدیہ ہی ہے جو اس سلسلہ تعلق کی وجہ سے خلافت سے بھی جڑی ہوئی ہے اور اس ٹور سے بھی فیض پا رہی ہے جو اللہ تعالیٰ