خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 567 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 567

567 خطبه جمعه فرموده 4 دسمبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم چنانچہ ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ الہام جس کے معنی یہ تھے کہ ملاء اعلیٰ کے لوگ خصومت میں ہیں ( یعنی جو آسمانی فرشتے ہیں وہ آپس میں بحث کر رہے ہیں، جھگڑ رہے ہیں )۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں یعنی ارادہ الہی احیاء دین کے لئے جوش میں ہے لیکن ہنوز ملاء اعلیٰ پر شخص مخیسی کی تعین ظاہر نہیں ہوئی۔اس لئے وہ اختلاف میں ہے۔اسی اثناء میں خواب میں دیکھا کہ لوگ ایک محیی کو تلاش کرتے پھرتے ہیں اور ایک شخص اس عاجز کے سامنے آیا اور اشارہ سے اس نے کہا هذَا رَجُلٌ يُحِبُّ رَسُول الله۔یعنی یہ وہ آدمی ہے جو رسول اللہ سے محبت رکھتا ہے اور اس قول سے یہ مطلب تھا کہ شرط اعظم اس عہدہ کی محبت رسول ہے سو وہ اس شخص میں متحقق ہے۔یعنی اس میں ثابت ہے۔(براہین احمد یہ روحانی خزائن جلد اول صفحہ 598) صد الله پس اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں اپنا تو آپ پر اتار کر آپ کو اس زمانے میں اس ٹو کو پھیلانے کے لئے کھڑا کر دیا جو آنحضرت ﷺ پر اللہ تعالیٰ نے اتارا تھا اور آپ کا یہ سب کچھ آنحضرت ہی سے سب سے زیادہ محبت کرنے کی وجہ سے تھا۔پس اس محبت کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے بھی آپ سے محبت کی اور آنحضرت ﷺ کے بعد اللہ تعالیٰ کے اس ٹو رکو جو زمین و آسمان پر حاوی ہے، جو روحانی انقلاب لانے کا ذریعہ بنتا ہے ، اپنے آقا کی غلامی میں آپ بھی اس ٹور کا پر تو ہے۔وہ وہی جو آنحضرت ﷺ کے پاک سینے پر اتری تھی اس کے علوم و معارف آپ پر بھی کھولے گئے تا کہ دنیا کو بتا سکیں کہ اس تعلیم کی اصل تفسیر یہ ہے جو آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق نے کی ہے۔آپ کو دنیاوی شہرت کی کوئی خواہش نہیں تھی لیکن جب اللہ تعالیٰ کا نور کسی پر پڑنے کا فیصلہ کرتا ہے تو پھر خود خدا تعالیٰ اس کو دنیا میں شہرت دیتا ہے تا کہ وہ شخص خدا تعالیٰ کے نور کو پھیلانے کا باعث بنے۔آپ کو خدا تعالیٰ نے الہام فرمایا کہ تو اس سے نکلا اور اس نے تمام دنیا سے تجھ کو چنا تو جہان کا نُور ہے تو خدا کا وقار ہے۔پس وہ تجھے ترک نہیں کرے گا۔اے لوگو! تمہارے پاس خدا کا نور آیا۔پس تم منکر مت ہو“۔کتاب البریہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 103-101) پس یہ نور آپ پر اللہ تعالیٰ نے خودا تارا اور آپ کی پاک فطرت کی وجہ سے آپ کا خدا تعالیٰ سے جو ایک تعلق قائم ہوا اور پھر آنحضرت ﷺ سے محبت کی وجہ سے اور آنحضرت مہ کی قوت قدسی کی وجہ سے وہ نور جو صحابہ کے ظاہری قالب پر پانی کی طرح یہا۔1400 سال بعد بھی اس نے نہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس نور سے بھر دیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو وہ ٹور آگے پھیلانے کا مقام بھی عطا فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”میرے لئے یہ کافی تھا کہ وہ میرے پر خوش ہو۔( یعنی اللہ تعالیٰ میرے پر خوش ہے ) مجھے اس بات کی ہرگز تمنا نہ تھی کہ میں مسیح موعود کہلاؤں یا مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں