خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 563 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 563

563 خطبہ جمعہ فرموده 4 دسمبر 2009 خطبات مسرور جلد هفتم پہلے میں ایک اور مضمون کے ضمن میں بیان کر چکا ہوں۔اب یہاں اس کی تفصیل تو بیان نہیں کرتا لیکن اس کا خلاصہ بیان کر کے اس مضمون کو پھر آنحضرت ﷺ کے صحابہ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالے سے بیان کروں گا۔اس ٹور کی جو مثال دی گئی ہے وہ آنحضرت ﷺ کی ذات تک ہی ہے یا اس میں وسعت ہے۔پچھلی دفعہ میں نے تفصیل بیان کی تھی۔شاید بعضوں کا خیال ہو کہ آنحضرت ﷺ کی ذات تک محدود ہے۔یقینا اللہ تعالیٰ کا نور ہر چیز پر حاوی ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے پہلا اعلان ہی یہ فرمایا کہ اللهُ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ که الله تعالى زمین و آسمان کا نور ہے۔اس لئے ہر چیز اس کے نور سے ہی فیض پاتی ہے اور فیض پاسکتی ہے۔اس کے علاوہ کوئی نہیں جو اپنی ذاتی ہوشیاری یا علم یا عقل سے اس کے نور کو حاصل کر سکے۔وہ خود چاہے تو مہیا کرتا ہے اور اس کے طریقے ہیں۔یہ نو ر اللہ تعالیٰ کس طرح ہے اور کیوں ہے اس لئے کہ زمین و آسمان کو پیدا کرنے والا بھی وہی ہے۔جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کئی جگہ ذکر فرمایا ہے کہ میں نے ہی زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے۔مثلاً ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللهُ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ (ابراہیم : 33) کہ اللہ وہ ہستی ہے جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا ہے۔اس میں موجود ہر چیز کو پیدا کیا اور پھر انہیں انسانوں کے لئے مسخر کیا۔جب اس نے پیدا کیا تو وہی ہے جو روحانی روشنی بھی عطا فرماتا ہے اور مادی بھی۔پس حقیقی نور اللہ تعالیٰ ہی ہے جو دیکھنے والی آنکھ کو ہر جگہ ، ہر روح میں، ہر جسم میں ، ہر چیز میں نظر آتا ہے۔لیکن ایک ایسا شخص جس کی روحانی آنکھ اندھی ہوا سے یہ نور نظر نہیں آتا۔لیکن ایک مومن اس یقین پر قائم ہے کہ ہماری کائنات اور جتنی بھی کائناتیں ہیں جن کا علم انسان کو ہے یا نہیں ہے، ان کا پیدا کرنے والا ، ان کا نور اور ان کو قائم رکھنے والا خدا تعالیٰ ہے اور اس نور کا صحیح ادراک پیدا کروانے کے لئے خدا تعالیٰ اپنے انبیاء اور فرستادوں کو بھیجتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ سے نور پاتے ہیں جو آسمان سے ان پر اترتا ہے اور وہ دنیا میں پھر اسے پھیلاتے ہیں۔وہ ٹور جو آسمان سے اتر کر زمین پر انبیاء کے ذریعہ سے پھیلتا ہے اس کی مثال اس آیت میں بیان فرمائی گئی ہے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ کچھ عرصہ پہلے آنحضرت مے کے حوالے سے کہ یہ نور آپ کی ذات میں کس طرح چپکا ؟ میں بیان کر چکا ہوں۔اور یہ اعلیٰ ترین معیار تھا اور قیامت تک رہے گا جو اللہ تعالیٰ کے نور کا پر تو بن کر دنیا میں قائم ہوا اور آنحضرت ﷺ نے اس نور کوزمین میں پھیلا دیا اور پھر یہی نہیں کہ اپنی زندگی میں پھیلایا بلکہ یہ سلسلہ جاری ہے اور یہ ٹور پھیلتا چلا جا رہا ہے۔آنحضرت ﷺ کی ذات سے جو اس کی مثال ہے وہ میں مختصر دوبارہ بیان کر دیتا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ کر که اللهُ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالاَرض کہ اللہ زمین و آسمان کا نور ہے، پھر فرمایا کہ انسانوں کے سمجھنے کے لئے اس کی مثال بیان کی جاتی ہے اور مثال یہ ہے۔اس کی مثال ایک مشکوۃ کی طرح ہے، ایک طاق کی طرح ہے، ایک ایسی