خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 520 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 520

520 خطبہ جمعہ فرمودہ 6 نومبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ (الرعد: 12) یعنی اللہ تعالیٰ کبھی کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی اندرونی حالت کو نہ بدلیں۔جب تک عبادتیں قائم رہیں گی ، جب تک تزکیہ اموال کی طرف توجہ رہے گی ، جب تک اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنے پر کمر بستہ رہیں گے ، جب تک نیکیوں کو پھیلاتے رہیں گے، جب تک برائیوں سے روکتے رہیں گے، جب تک خلافت سے تعلق قائم رکھیں گے تمکنت دین حاصل کرنے والوں کا حصہ بنے رہیں گے اور خوف کی حالت کو خدا تعالیٰ امن میں ہمیشہ بدلتا چلا جائے گا۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ خیر امت کہہ کر ایک مجموعی ذمہ داری سب پر ڈالی گئی ہے کہ نیکیاں پھیلانے اور برائیوں کو روکنے کے لئے مل کر کام کریں۔اب ہر ایک تو اپنے علم میں اتنا نہیں ہوتا کہ بعض کام کر سکے یا اپنی مصروفیت کی وجہ سے بھی بعض دفعہ اس کو وقت نہیں ملتا۔اپنی بعض دوسری ذمہ داریوں کی وجہ سے بھی وہ ہر وقت اس کام کے لئے تیار نہیں ہوسکتا۔ان پروگراموں کو بجالانے کے لئے جو نیکیوں کو پھیلانے اور تبلیغ اسلام کرنے کے لئے ہیں وہ پوری طرح اپنا عہد نبھا نہیں سکتا اور ذاتی طور پر جیسا کہ میں نے کہا ہر ایک کے لئے بہت مشکل ہے اور اگر وقت دے بھی دے تو اکثر کام بلکہ فی زمانہ تو سارے کام ہی ایسے ہیں کہ جن کے لئے سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے ہمیشہ الہی جماعتیں مالی قربانیاں بھی کرتی ہیں اور وہ لوگ جو ذاتی طور پر یہ کام انجام نہیں دے سکتے وہ اس زمانہ میں خاص طور پر مالی قربانیوں کے ذریعہ سے اس کام کو سر انجام دیتے ہیں تا کہ خدا تعالیٰ کے پیغام کو پہنچانے کے لئے جو منصوبے مرکزی طور پر انبیاء کے زمانے میں انبیاء کے حکم کے مطابق اور بعد میں خلافت کے تابع تیار کئے جاتے ہیں انہیں پورا کیا جا سکے۔آنحضرت ﷺ کے زمانے میں بھی اس کی ضرورت پڑتی تھی اور مالی قربانیوں کا حکم تھا۔اسی لئے قرآن کریم نے متعدد جگہ عبادتوں کے ساتھ مالی قربانیوں کا بھی ذکر فرمایا۔پھر جو آپ میہ کے خلفاء راشدین کہلاتے ہیں انہوں نے بھی مالی قربانیوں کے لئے اُمت میں تحریک کی۔اس کے علاوہ بھی مومنین ان کا موں کے لئے قربانیاں کرتے رہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بھی یہ قربانی جاری رہی۔پھر آپ کے بعد ہر خلافت کے دور میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت مالی قربانیوں میں حصہ لیتی رہی اور یہ سلسلہ انشاء اللہ تا قیامت چلتے چلے جانے والا ہے، چاہے جتنے بھی جماعت کے وسائل ہو جائیں۔لوگ سمجھتے ہیں کہ جماعت کے پاس بہت پیسہ آ جائے گا، جب جماعتیں بہت ہو جائیں گی تو چندوں کی کوئی ضرورت نہیں رہے گی۔یہ بالکل غلط تصور ہے۔مالی قربانیوں کا مطالبہ تو ہر صورت میں ہوتا چلا جائے گا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مالی قربانیوں کو تزکیہ نفس کے لئے ضروری قرار دیا ہے۔جماعت میں مالی قربانیوں کا سلسلہ جیسا کہ میں نے کہا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ سے چلتا