خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 519
519 خطبات مسرور جلد هفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 6 نومبر 2009 پس آج احمدی اس ہاتھ پر جمع ہونے کی وجہ سے خیر امت کہلاتے ہیں اور یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ نیک باتوں کا حکم دیں اور بُری باتوں سے روکیں اور یہ سب کچھ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک اپنے عمل بھی اس کے مطابق نہ ہوں اور جب تک خدا تعالیٰ پر مضبوط ایمان نہ ہو اور پھر ان نیکیوں کو پھیلانے اور برائیوں سے روکنے کے لئے من حَيْتُ الجماعة قربانی کا جذبہ نہ ہو۔بڑے مقاصد حاصل کرنے کے لئے بہر حال قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔اپنی عبادتوں کے معیار قائم کرنے پڑتے ہیں اور اپنے مال کا تزکیہ کرنا ہوتا ہے۔سورۃ حج میں اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کو اس طرح بیان فرمایا ہے۔فرمایا: الَّذِيْنَ إِنْ مَكْتُهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلوةَ وَآتَوُا الزَّكَوةَ وَآمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْامُوْرِ ( ا ج :42 ) کہ جنہیں اگر ہم زمین میں تمکنت عطا کریں تو وہ نماز کو قائم کرتے ہیں اور زکوۃ ادا کرتے ہیں اور نیک باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں اور ہر بات کا انجام اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جنہیں ہم زمین میں تمکنت دیتے ہیں ، ان کی ایک منفردشان ہو جاتی ہے۔وہ فتنوں اور فسادوں سے محفوظ ہو جاتے ہیں۔وہ ایک ڈھال کے پیچھے ہوتے ہیں اس لحاظ سے دینی اور روحانی لحاظ سے وہ محفوظ ہو جاتے ہیں۔اب اس آیت کو اگر آیت استخلاف کے ساتھ ملائیں جس میں خدا تعالیٰ نے خلافت کا وعدہ فرمایا ہے تو وہاں بھی اللہ تعالیٰ نے ایمان اور اعمال صالحہ بجالانے والوں کو خلافت کے انعام کے ساتھ تمکنت عطا فرمانے کا وعدہ فرمایا ہے۔پس جب ایک احمدی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آتا ہے تو اس کے لئے پہلی خوشخبری یہ ہے کہ اس خاتم الخلفاء کی بیعت اور اس کے بعد نظام خلافت کے جاری ہونے اور اس کی بیعت میں آنے کی وجہ سے اسے تمکنت ملی ہے اور یہی چیز پھر اسے خیر امت بناتی ہے۔اب اس کا حق ادا کرنے کے لئے نماز کے قیام کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔مالی قربانی کرتے ہوئے اپنے مال کا تزکیہ کرنے کی ضرورت ہے۔نیک باتوں کا حکم دینے کا حکم ہے۔انہیں پھیلانے کا حکم اور اس کی ضرورت ہے۔اسلام کی خوبصورت تعلیم کو دنیا میں پھیلانے کی تلقین ہے۔اور برائیوں کے راستے میں سدراہ بن جانے کا حکم ہے۔ایک روک کھڑی کرنے کا حکم ہے۔تم برائیوں کے رستے میں ایسے کھڑے ہو جاؤ جیسے ایک سیسہ پلائی دیوار ہوتی ہے جس سے کوئی چیز گزر نہیں سکتی۔پس اگر نیک نیتی سے ایک احمدی اس حق کو ادا کرنے کے لئے تیار ہو جائے گا تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ، خدا تعالیٰ کی طرف سے تمہیں مدد ملے گی ، قوت اور طاقت بھی ملے گی۔جیسا کہ میں نے بتایا تھا کہ جب تک مسلمان ان نیکیوں پر قائم رہے انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے قوت اور طاقت اور مددملتی رہی اور خیر امت بنے رہے اور جب اپنے فرائض کو بھولے تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے بھی محروم ہو گئے۔جس کا میں نے گزشتہ خطبہ میں بھی ذکر کیا تھا۔میں نے یہ آیت پڑھی تھی کہ ان اللہ