خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 518 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 518

خطبات مسرور جلد ہفتم 518 خطبہ جمعہ فرمودہ 6 نومبر 2009 اٹھاتے ہیں کہ یہ فرقہ مسلمان ہے یا دوسرا فرقہ مسلمان ہے۔یہ ایک فرقہ خیر امت میں شامل ہے یا دوسرا فرقہ خیر امت میں شامل ہے۔اس کا جوحل آنحضرت ﷺ نے بتایا ہے اگر اس پر عمل کریں تو مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب ایسے حالات ہوں گے، تم لوگ کئی فرقوں میں بھی بٹے ہوئے ہو گے (سنن ابن ماجہ کتاب الفتن باب افتراق الامم حدیث 3993) تو مسیح موعود کو خدا تعالیٰ مبعوث فرمائے گا اسے مان لینا اور جا کر میرا سلام پہنچانا۔بلکہ برف کی پر گھٹنوں کے بل چل کر بھی اگر جانا پڑے تو جانا اور اسے سلام پہنچانا ( سنن ابن ماجہ کتاب الفتن باب خروج المہدی حدیث (4084) اور اس کی جماعت میں شامل ہو جانا۔وہی حکم اور عدل ہو گا۔(سنن ابن ماجہ کتاب الفتن باب فتنة الدجال و خروج عیسی ابن مریم وخروج یا جوج و ماجوج حدیث 4078 ) وہی حقیقی فیصلے کرے گا۔وہی تمہیں سلوں پر صحیح شریعت بتائے گا۔وہی اسلام کی برتری تمام ادیان پر ثابت کرے گا۔وہی اسلام کی تبلیغ کا حق ادا کرے گا۔پس جہاں یہ غیر از جماعت دوستوں کے لئے اور اسلام کا در در رکھنے والوں کے لئے سوچنے کا مقام ہے، ایک احمدی پر بھی اس بات سے بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ خیر امت ہونے کا حق ادا کرنے کی کوشش کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جب اللہ تعالیٰ نے الہاماً فرمایا کہ سب مسلمانوں کو جو روئے زمین پر ہیں جمع کر و عَلى دِينِ وَاحِدٍ ( تذکرہ صفحہ 490 ایڈیشن چہارم 2004 ء مطبوعہ ربوہ ) تو یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اس کا حق ادا کریں۔مسلمان تو پہلے ہی اس آخری شریعت قرآن کریم پر ایمان لانے والے ہیں اور آخری نبی حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفی ﷺ پر ایمان لانے والے ہیں۔کسی نئے دین نے تو اب آنا نہیں ہے اور یہی ایک دین ہے جو تا قیامت قائم رہنے والا دین ہے۔پھر یہاں کون سا دین مراد ہے جس پر مسلمانوں کو جمع کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو حکم دیا ہے۔یہ دین اسلام ہی ہے جس میں ہر فقیہ اور ہر امام کے پیچھے چلنے والوں نے فرقہ بندیاں اور گروہ بندیاں کر لی ہیں۔اور زمانے کا امام جو آنحضرت ﷺ کی کامل پیروی میں مبعوث ہوا اور جسے حکم اور عدل بنا کر اللہ تعالیٰ نے بھیجا، وہی ہے جو اسلام کی اور قرآن کریم کی صحیح تفسیر پیش کرنے والا ہے۔اور 13 صدیوں کے دوران پیدا ہونے والے جتنے عالم اور جتنے فقیہ اور جتنے مجد داور جتنے مفسر ہیں جنہوں نے اپنے اپنے حالات اور علم کے مطابق جو فیصلے دیئے یا تفسیریں لکھیں ان میں سے جن کی تصدیق اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا یہ خاتم الخلفاء اور حکم اور عدل کرے وہی تفسیر و تشریح صحیح ہے اور وہی حقیقی دین ہے جس پر جمع کرنا ہے۔اس لئے اب کسی قسم کے فقہی یا فروعی مسائل میں الجھنے کی ضرورت نہیں۔جو فیصلہ آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق نے اللہ تعالیٰ سے حکم یا کر اس زمانہ میں کیا وہی وہ حقیقی دین ہے جو آنحضرت میں لائے تھے اور اسی پر اب تمام امت کی بقا ہے کہ اس پر جمع ہو جائے۔