خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 517
517 خطبہ جمعہ فرمودہ 6 نومبر 2009 خطبات مسرور جلد هفتم مطابق آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کو دنیا میں بھیجا تا کہ ایمان کو ثریا سے دوبارہ زمین پر لے کر آئے اور آ کر دوبارہ اسلام کی شان و شوکت کو قائم فرمائے تا کہ اسلام کے بہترین مذہب ہونے اور مسلمانوں کے خیر امت ہونے کا اعزاز ایک شان سے دوبارہ دنیا کے سامنے سورج کی طرح روشن ہو کر ابھرے۔پس آج خیر امت ہونے کا یہ اعزاز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کو حاصل ہے۔بیشک دوسرے مسلمان فرقوں میں نیک کام کرنے والے بھی ہیں۔برائیوں سے روکنے والے بھی ہوں گے لیکن خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم خیر امت ہو۔مِنْ حَيْث الامت ان نیکیوں کے بجالانے والے اور برائیوں سے روکنے والے ہو اور یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک اُمت ایک ہاتھ پر کھڑی ہونے والی اور بیٹھنے والی نہ ہو۔مسلمان ممالک میں بھی گروہوں کی صورت میں بھی اچھے کام کرنے والے اور برے کاموں سے روکنے والے ہو سکتے ہیں اور ہوں گے۔لیکن وہ ہر ملک میں اپنے اپنے عالم یا لیڈر کے پیچھے چل کر اپنے اپنے طریق پر کام کرنے والے لوگ ہیں اور پھر کتنے مسلمان ملک ہیں جو ایک ہو کر اسلام کا پیغام پہنچانے کی کوشش کرنے والے ہیں، دنیا میں تبلیغ اسلام کرنے والے ہیں۔جتنے فرقے ہیں اپنے اندرونی فروعی مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔اسلام کی خوبصورت تعلیم کو کیسے دنیا میں پھیلانے کی فرصت ہے؟ اس تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچانے کی کسے فرصت ہے؟ گزشتہ دنوں اتفاق سے میں نے ایک اسلامی ٹی وی چینل دیکھا۔اس میں ایک شیعہ عالم تھے اور ایک سنی عالم تھے اور شاید نبوت کے بارہ میں بحث ہو رہی تھی۔آخر میں چند منٹ میں نے دیکھا، وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر بھی ایک اعتراض کا جواب دے رہا تھا۔یا اعتراض کر رہا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بارہ میں تو دونوں ایک جیسے خیالات رکھنے والے تھے۔لیکن باتوں میں شیعہ عالم اپنے مسلک کے حوالے سے ہی بات کرتا تھا تو سنی عالم اس کو ٹوک دیتا تھا کہ یوں نہیں یوں ہونا چاہئے یا اس طرح ہے۔اور جہاں سنی عالم اپنے مسلک کے حوالے سے کوئی بات کرتا تھا تو شیعہ اسے ٹوک دیتا تھا کہ اس طرح نہیں اس طرح ہونا چاہئے۔آئے تو شاید ،شاید کیا یقینا ہمارے خلاف زہرا گلنے تھے، اپنے خیال میں، اپنے زعم میں مسلم امہ کو ایک فتنے سے بچانے کے لئے تھے لیکن خود آپس میں الجھ کر فتنے کا شکار ہو رہے تھے۔اور نہ صرف خود شکار ہو رہے تھے بلکہ دوسروں کے لئے بھی بدنمونہ ہی پیش کر رہے تھے۔اور ان کے چہروں پر صاف عیاں تھا ، صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ انہیں ایک دوسرے کو دیکھ کر بڑی بے زاری پیدا ہو رہی ہے۔ان کے آپس میں ایک دوسرے کے خلاف جو کفر کے فتوے ہیں، ان کو دیکھ کر ایک عام سادہ مسلمان جو دل سے صرف اسلام کی عظمت دیکھنا چاہتا ہے ان مختلف مسالک اور فرقوں کو دیکھ کر سوچ میں پڑ جاتا ہے۔اب کئی لوگ یہ سوال