خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 515
خطبات مسرور جلد ہفتم 515 (45) خطبہ جمعہ فرمودہ 6 نومبر 2009 فرمودہ مورخہ 06 نومبر 2009ء بمطابق 06 رنبوت 1388 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد اس آیت کی تلاوت فرمائی: كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلَوْ امَنَ أَهْلُ الْكِتبِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَاَكْثَرُهُمُ الْفَسِقُوْنَ (آل عمران: 111) یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے آل عمران کی آیت ہے اس کے اس حصہ کہ كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللہ کے بارہ میں کچھ بیان کروں گا۔اس کا ترجمہ ہے کہ تم سب سے بہتر جماعت ہو جسے لوگوں کے فائدہ کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔تم نیکی کی ہدایت کرتے ہو اور بدی سے روکتے اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔اس میں مسلمان ہونے کی اہمیت اور اس کے مقاصد کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔مسلمان ہونا ایک بہت بڑی بات ہے اس میں کوئی شک نہیں۔ایک مسلمان آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے کے بعد اس آخری شریعت پر ایمان لاتا ہے، جو کامل مکمل اور جامع ہے۔اور یہ وہ شریعت ہے جو قرآن کریم کی صورت میں خدا تعالیٰ نے اتار کر پھر یہ اعلان فرمایا کہ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ (الحجر: 10) کہ اس ذکر یعنی قرآن کریم کو ہم نے ہی اتارا ہے اور ہم ہی یقینا اس کی حفاظت کریں گے۔پس یہ وہ شریعت ہے جو قرآن کریم کی صورت میں آج تک اپنی اصلی حالت میں محفوظ ہے اور آج تک ہم خدا تعالیٰ کے وعدہ کو بڑی شان سے پورا ہوتا دیکھ رہے ہیں اور یہ فخر آج مذاہب کی دنیا میں صرف اور صرف اسلام کو حاصل ہے اور تا قیامت یہ فخر اسلام کو ہی حاصل رہنا ہے۔ایک حقیقی مسلمان کو ہمیشہ سوچنا چاہئے کہ کیا اللہ تعالیٰ کے اس اعلان اور اسلام کے اس فخر کا ہونا ہی اس کے لئے کافی ہے؟ اسلام کا یہ اعلیٰ مقام ہونے اور آخری اور کامل شریعت ہونے میں ایک عام مسلمان کا کیا حصہ ہے؟ اللہ تعالیٰ نے جو مسلمانوں کو خیر امت کہا ہے ایک مسلمان نے یا بحیثیت اُمہ ، اُمت مسلمہ نے اس کے خیر امت ہونے میں کیا حصہ ڈالا ہے۔یہ تو اللہ تعالیٰ کا فعل ہے کہ اس نے آنحضرت ﷺ کو آخری شرعی نبی بنا کر بھیجا ہے۔قرآن کریم کو آخری شرعی کتاب کی صورت میں نازل فرمایا اور آج