خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 490
490 خطبه جمعه فرموده 16 اکتوبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم زمانے میں تلوار کے جہاد کے ذریعہ سے نہیں جیسا کہ میں نے کہا، ہر زمانے میں اللہ تعالیٰ نے پکڑنے کے اپنے طریقے رکھے ہوئے ہیں۔بلکہ جو بانی اسلام ﷺ پر ظالمانہ طور پر الزام لگانے والے ہیں اور استہزاء کا نشانہ بناتے ہیں، انہیں ایسے طریقہ سے پکڑے گا جس کے بارہ میں ہم سوچ نہیں سکتے۔اللہ تعالیٰ کو پتہ ہے کس طرح پکڑنا ہے اور اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایسے لوگوں کو پکڑ کر پھر بتایا بھی۔ان کو عبرت کا نشانہ بھی بنایا اور دنیا نے دیکھا۔اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے جوگر بتایا ہے وہ یہ ہے کہ پکڑ تو میری آنی ہے لیکن جہاد کے ذریعہ سے پکڑ نہیں ہونی۔پکڑ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے طریقہ سے کرنی ہے تم لوگوں نے کیا کرنا ہے لیکن جو طریق کار اختیار کرنا ہے اس میں تمہارا حصہ یہ ہو کہ تم دعا کا ہتھیار استعمال کرو اور یہ دعا کا ہی ہتھیار ہے جس کو ہم نے دیکھا۔اس ہتھیار نے پنڈت لیکھرام کو بھی کچھ عرصہ ڈھیل دینے کے بعد اپنے انجام تک پہنچایا۔عبداللہ آتھم کو بھی ، ڈوئی کو بھی انجام تک پہنچایا اور باقی مخالفین بھی اپنے انجام کو پہنچے۔پس آج بھی جو لوگ آنحضرت مے کے بارہ میں استہزاء اور نازیبا کلمات کہتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے محفوظ نہیں ہیں چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے ہیں یالا مذہب ہیں۔قرآن کریم جو آنحضرت ﷺ کے واقعات کے علاوہ باقی انبیاء کے واقعات بھی بیان کرتا ہے کہ جب بھی مخالفین نے ان انبیاء کو دکھ پہنچائے تو اللہ تعالیٰ نے ایک مدت کے بعد ، کچھ عرصے کے بعد، انہی کی تدبیریں ان پر الٹا دیں اور اپنے انبیاء کی حفاظت فرمائی۔انسانی عقل اُس انتہا تک نہیں پہنچ سکتی جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیاروں کے حق میں دشمنوں کی سزا کا فیصلہ کیا ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دشمنوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے بعض کو موت دے کر عبرت کا نشان بنایا۔بعض کو ڈھیل دے کر اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کامیابیاں دکھا کر انہیں اپنی آگ میں جلنے پر مجبور کیا۔یہ بھی ان کے لئے پکڑ تھی۔پس یہ فیصلہ خدا تعالیٰ نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے کہ کس کو کس طرح پکڑنا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے الہام فرمایا کہ وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ ثُمَّ يَتَقَضَى عَلَى الْمَاكِرِين - ( تذکرہ صفحہ 219۔ایڈیشن 2004، مطبوعہ ربوہ ) اور انہوں نے بھی تدبیریں کیں اور اللہ نے بھی تدبیریں کیں اور اللہ تدبیر کرنے والوں میں سب سے بہتر ہے۔پھر وہ تدبیر کرنے والوں پر جھپٹ پڑے گا۔يَتَقَضَى عَلَى الْمَاكِرِينَ تدبیر کرنے والوں پر جھپٹ پڑے گا۔اس کو مزید کھو لیں تو یہ اس طرح بنے گا کہ اللہ تعالیٰ ان کو فنا کرنے کے لئے ان پر جھپٹے گا۔پس جب اللہ تعالی تدبیر کرتا ہے تو کسی کی زندگی ختم کر کے فنا کرتا ہے اور کسی کی عزت خاک میں ملا کر اس کو دنیا میں ذلیل ورسوا کر دیتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کی تقدیر تو اپنا کام کرے گی اور کر رہی ہے۔لیکن ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ