خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 466 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 466

466 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبه جمعه فرموده 2 اکتوبر 2009 رکھنا چاہئے کیونکہ ان شہداء کے ناموں کو زندہ رکھنا جماعت مومنین کی زندگی کی بھی ضمانت بن جاتا ہے۔ان مثالوں کو سامنے رکھ کر پھر دوسرے مومن جو ہیں وہ بھی دین کی خاطر ہر قربانی کے لئے تیار رہتے ہیں کہ کس طرح قربانیاں کرنے والوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے اور جس قوم میں قوم کی خاطر جان دینے والے موجود ہوں وہ قو میں پھر مرا نہیں کرتیں اور پھر جو خدا تعالیٰ کے دین کی خاطر جانیں قربان کرنے والے ہوں ان کے ساتھ تو خدا تعالیٰ کی خاص تائیدات ہوتی ہیں۔آج مسیح موعود کے زمانہ میں مذہبی جنگوں کا تو خاتمہ ہے تو کیا خدا تعالیٰ کی راہ میں اب کوئی قتل نہیں ہوتا جو مرنے کے بعد خود بھی ہمیشہ کی زندگی پائے اور مومنین کی زندگی کے بھی سامان کرے۔جب آخرین نے اولین سے ملنے کے معیار قائم کرنے تھے۔تو یقیناً خدا تعالیٰ کی راہ میں جانوں کے نذرانے بھی پیش کرنے تھے۔پس ان آخرین نے جنہوں نے مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں بھی جانیں قربان کرنے کے نمونے دکھائے سرزمین کابل میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے اور جانوں کے نذرانے پیش کر کے دائمی زندگی کے راستے ہمیں دکھائے اور اس کے بعد آج تک افراد جماعت خدا تعالیٰ کی خاطر جانوں کے نذرانے پیش کرنے کے نمونے قائم کرتے چلے جا رہے ہیں اور ہر شہید احمدی کے خون کا ہر قطرہ جہاں ان کی اُخروی زندگی میں ان کے درجات کو بلند کرتا چلا جارہا ہے وہاں جماعتی زندگی کے بھی سامان پیدا کرتا چلا جارہا ہے۔پس اگر دشمن یہ سمجھتا ہے کہ اس سے جماعتی زندگی کو متاثر کر رہے ہیں، یا ایمانوں کو کمزور کر رہے ہیں تو یہ دشمن کی بھول ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم شعور نہیں رکھتے۔جو سطحی نظر سے دیکھنے والے ہیں ان کو اس بات کا فہم ہی نہیں ہے کہ جو انقلاب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی جماعت میں پیدا کیا ہے وہ مالی اور جانی نقصان سے رکنے والا نہیں۔اب اللہ تعالیٰ کی تقدیر نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ آخر کا راسی جماعت نے اللہ تعالیٰ کے دین کو دنیا میں قائم کرنا ہے۔پس آج بھی جماعت کی خاطر دی جانے والی ہر شہادت جماعت کے ہر فرد، مرد ، عورت، بچے، بوڑھے میں ایک نئی روح پھونکتی ہے۔ہر شہادت کے بعد افراد جماعت کی طرف سے جوئیں خط وصول کرتا ہوں ان میں اخلاص و وفا اور قربانیوں کو پیش کرنے کے لئے نئے انداز پیش کئے جاتے ہیں۔ایسے لوگوں کے بارہ میں ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ان کے اخلاص و وفا کو دیکھ کر ہمیں حیرت ہوتی ہے۔پس مخالفین کا یہ خام خیال ہے کہ ان کے احمدیوں کے جان و مال کو نقصان پہنچانے سے احمدی اپنے ایمان سے پھر جائیں گے۔نہیں، بلکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہر امتحان ایمانوں میں مضبوطی پیدا کرتا ہے۔اگر ان مخالفین کے خیال میں وہ اس مخالفت کی وجہ سے احمدیت کو ختم کر دیں گے تو یہ بھی ان کی خام خیالی ہے۔جماعت کو تو