خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 464
464 خطبہ جمعہ فرموده 2 اکتوبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم ہوں گے۔ان لوگوں کی مدد کروں گا جو صبر کرنے والے اور دعا مانگنے والے ہیں۔لیکن اگر تم میری مدد چاہتے ہو تو تمہیں بھی استقلال کے ساتھ میری بندگی کا حق ادا کرنا ہوگا اور بندگی کا حق اسی طرح ادا ہو گا جس طرح کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ ابتلاؤں میں اپنے پائے ثبات میں کبھی لغزش نہ آنے دو اور خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور جھک جاؤ۔یہ آج ہر احمدی کی ذمہ داری ہے۔جیسا کہ میں گزشتہ خطبات میں بھی کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں کہ پاکستان میں بھی اور بعض عرب ممالک میں بھی اور ہندوستان کے بعض علاقوں میں بھی احمدیوں پر بعض سخت حالات آئے ہوئے ہیں یا ان کے لئے ایسے حالات پیدا کئے جارہے ہیں۔پاکستان جیسے حالات تو کہیں بھی نہیں وہاں تو بہت زیادہ حالات بگڑ رہے ہیں۔پاکستان میں بعض جگہ ظلموں کی انتہا ہوئی ہوئی ہے۔آئے دن مولوی کوئی نہ کوئی شوشہ چھوڑتے رہتے ہیں اور حکومت بھی ان کا ساتھ دے رہی ہے۔یا بعض جگہوں پر حکومت کے کارندے یا افسران جو ہیں افراد جماعت پر سختیاں کرنے میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑتے۔دوسرے ملکوں میں بھی احمدیوں پر بعض جگہوں میں جمعہ اور نمازیں پڑھنے پر پابندی ہے۔حکومتی ایجنسیوں کی طرف سے بلا کے کہا جاتا ہے کہ تم نے نمازیں نہیں پڑھنی اور جمعہ نہیں پڑھنا، جمع نہیں ہونا۔لیکن بہر حال جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے حالات میں پہلے سے بڑھ کر ایمان میں مضبوطی پیدا کر و اور یہ مضبوطی پیدا کرتے ہوئے ظاہری اعمال کو بھی بہتر کرو اور عبادتوں کے معیار بھی بہتر کرو اور پھر دیکھو کہ کس طرح خدا تعالیٰ تمہاری مدد کے لئے آتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارہ میں فرماتے ہیں کہ : کوشش کرو کہ پاک ہو جاؤ کہ انسان پاک کو تب پاتا ہے کہ خود پاک ہو جاوے“۔( یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے اور اللہ تعالیٰ کو پانے کے لئے خود پاک ہونا بھی ضروری ہے۔فرمایا کہ نگر تم اس نعمت کو کیونکر پا سکو۔اس کا جواب خود خدا نے دیا ہے جہاں قرآن میں فرماتا ہے وَاسْتَعِيْنُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ یعنی نماز اور صبر کے ساتھ خدا سے مدد چاہو۔نماز کیا چیز ہے؟ وہ دعا ہے جو تسبیح تحمید، تقدیس اور استغفار اور درود کے ساتھ تضرع سے مانگی جاتی ہے۔سو جب تم نماز پڑھو تو بے خبر لوگوں کی طرح اپنی دعاؤں میں صرف عربی الفاظ سے پابند نہ رہو وہ لوگ جو عربی نہیں جانتے ان کو فرمایا کہ اپنی زبان میں بھی دعائیں کرنی چاہئیں۔کیوں؟ فرماتے ہیں کہ ”جب تم نماز پڑھوتو بجز قرآن کے جو خدا کا کلام ہے اور بجر بعض ادعیہ ماثورہ کے کہ وہ رسول کا کلام ہے۔باقی اپنی تمام عام دعاؤں میں اپنی زبان میں ہی الفاظ متضرعانہ ادا کر لیا کرو تا کہ تمہارے دلوں پر اس عجز و نیاز کا کچھ اثر ہو“۔کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 68-69)