خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 445
445 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 ستمبر 2009 خطبات مسرور جلد هفتم پس جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اس میں ایک گھڑی ایسی آتی ہے جو قبولیت دعا کی گھڑی ہے۔( صحیح بخاری کتاب الجمعة باب الساعة التي في يوم الجمعۃ حدیث نمبر 935) تو دعا کی جو گھڑی ہے اس میں جو دعا خدا تعالیٰ نے سکھائی ہے یعنی درود بھیجنے کی وہ اگر ہم کریں گے تو ہماری جو باقی وقتوں میں کی گئی دعائیں ہیں اس درود کی برکت سے قبولیت کا درجہ پائیں گی۔پس جمعہ کے دن ہمیں درود شریف پڑھنے کا بھی خاص طور پر اہتمام کرنا چاہئے۔مسلمانوں پر یہ بھی خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ پورے دن کی پابندی نہیں لگائی گئی کہ کچھ نہیں کرنا بلکہ جمعہ کی نماز کے بعد دنیاوی کاموں میں مصروف ہونے کی اجازت دی ہے۔لیکن یہ اجازت ایک شرط کے ساتھ ہے۔ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کو نہیں بھولنا۔دوسرے اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرنا ہے یا ترتیب کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرنا ہے اور اس کا ذکر کرنا ہے۔تو جو شخص اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنے دنیاوی کام کرے گا کہ میں یہ کام اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے تحت کر رہا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میر افضل تلاش کر و تو فوراً یہ خیال بھی دل میں آئے گا کہ میرا کوئی کام ایسا نہ ہو جو صرف دنیاوی لالچ کے زیر اثر ہو۔میرا کاروبار، میری ملازمت ، میری تجارت ان اصولوں پر چلتے ہوئے جو تقویٰ کی طرف لے جانے والے ہیں۔میں کہیں یہ نہ سمجھوں کہ کیونکہ یہ دنیاوی کاروبار ہے اس لئے اس میں یہ دھو کہ جائز ہے۔نہیں بلکہ جب خدا تعالیٰ کا فضل مانگنا ہے تو پھر ہمارا ہر معاملہ صاف اور شفاف ہونا چاہئے۔دوسرے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو بکثرت یاد کرو۔اس سے ایک تو ہمیشہ یہ خیال رہے گا کہ میں نے اپنی عبادتوں کی حفاظت کرنی ہے۔دوسرے یہ کہ میرے کام اگر اچھے ہورہے ہیں، ان میں کامیابی حاصل ہورہی ہے تو اس لئے کہ میرا پورا تو گل خدا تعالیٰ کی ذات پر ہے۔اور پھر آخری آیت میں خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ رزق دینے والی اصل ذات جو ہے خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔کاروباروں میں برکت پڑتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے پڑتی ہے۔تمہاری کوئی پہچان ہے تو خدا تعالیٰ کے فضل کی وجہ سے ہے۔اس لئے جب آخری زمانے میں مسیح موعود کو مان لوتو پھر دنیاوی لالچیں اور دنیاوی کھیل تماشے تمہارے سے بہت دور چلے جانے چاہئیں۔اگر یہ اپنے سے دور نہ پھینکیں تو تمہاری حالت ایسی ہوگی جیسے تم نے مسیح موعود سے یہ عہد بیعت کر کے کہ ہم اپنی جان مال وقت اور عزت کو قربان کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہیں گے، پھر مسیح موعود کو اکیلا چھوڑ دیا اور مسیح موعود نے جس کام کے لئے تمہیں جمع کیا تھا، ایک جماعت بنائی تھی ، جماعت میں شامل ہونے کے لئے کہا تھا ، اسے بھول گئے۔خدا تعالیٰ سے کام کیا تھا یہی کہ خدا تعالیٰ سے ایک خاص تعلق جوڑنا، اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے ذکر سے اپنی زندگیوں کو سجانا اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے حقوق ادا کرنا۔گویا اللہ تعالیٰ نے اس بات کو آزمانے کے لئے کہ تمہارا کس حد تک آخرین میں بھیجے ہوئے آنحضرت اللہ کے عاشق صادق کے ساتھ تعلق ہے اور کس حد تک تم اس بات میں بچے ہو کہ ہم مسیح موعود سے کئے گئے عہد بیعت کو نبھانے والے ہیں، جمعہ پر حاضر ہونا تمہارا معیار مقرر کیا ہے۔پس ہر احمدی کو ہمیشہ یاد