خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 444 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 444

444 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 18 ستمبر 2009 اس دن کی اہمیت احادیث سے بھی ثابت ہے۔آنحضرت اللہ نے اس دن کی اہمیت کے بارہ میں ہمیں بہت کھول کر بتایا ہے کہ کیوں یہ دن ہمارے لئے اہم ہے۔اس لئے کہ یہ حضرت آدم کی پیدائش اور وفات کا دن ہے اور حضرت آدم علیہ السلام ہماری روحانی زندگی کی ابتداء میں ایک مقام رکھتے ہیں۔جس کے بارہ میں قرآن کریم میں بھی خدا تعالیٰ نے بڑا واضح فرمایا ہوا ہے اور پھر مسیح موعود کے زمانے میں مسیح موعود کو بھی خدا تعالیٰ نے آدم کا نام دیا ہے۔اس زمانہ میں احیائے دین آپ سے وابستہ ہے۔پس احمدیوں کے لئے جمعوں کا اہتمام ایک انتہائی ضروری چیز ہے۔تبھی ہماری سمتیں بھی درست رہیں گی تبھی ہم ہمیشہ ان برکات سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کے ساتھ وابستہ ہیں۔آنحضرت ﷺ نے جمعہ کے دن کی اہمیت کے بارے میں جو فرمایا ، ان میں سے بعض احادیث آپ کے سامنے رکھوں گا۔حضرت اوس بن اوس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہارے دنوں میں سے بہترین دن جمعہ کا ہے۔اس میں حضرت آدم پیدا کئے گئے اور اسی دن فوت ہوئے۔اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اسی دن بیہوشی طاری ہوگی۔پس اس دن مجھ پر بکثرت درود بھیجو کیونکہ اس دن تمہارا یہ درود میرے سامنے پیش کیا جائے گا۔( سنن ابی داؤ د کتاب الصلوۃ باب فضل يوم الجمعة وليلة الجمعة حديث نمبر 1047 پھر ایک دوسری حدیث ہے ابن ماجہ کی۔اس میں حضرت ابولبابہ بن منذر سے روایت ہے کہ آنحضرت می نے فرمایا کہ جمعہ کا دن دنوں کا سردار ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ عظیم ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یوم الاضحی اور یوم الفطر سے بھی بڑھ کر ہے۔اس دن کی پانچ خصوصیات ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس دن آدم کو پیدا کیا۔دوسرے اللہ نے اس دن حضرت آدم کو زمین پر اتارا۔تیسری اس دن اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو وفات دی۔چوتھی اس دن میں ایک گھڑی ایسی بھی آتی ہے کہ اس میں بندہ حرام چیز کے علاوہ جو بھی اللہ تعالیٰ سے مانگے تو وہ اسے عطا کرتا ہے۔اور پانچویں یہ ہے کہ اسی دن قیامت برپا ہوگی۔مقرب فرشتے آسمان، زمین اور ہوائیں اور پہاڑ اور سمند راس دن سے خوف کھاتے ہیں۔(ابن ماجہ۔کتاب اقامۃ الصلوۃ وسنۃ فیھا۔باب فی فضل الجمعۃ حدیث نمبر 1084) ان حادیث سے مزید وضاحت ہو جاتی ہے کہ اس دن کی کیا اہمیت ہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مجھے پر کثرت سے درود بھیجو۔ویسے تو عام طور پر بھی درود بھیجنا چاہئے لیکن فرمایا ہر جمعہ کو کثرت سے بھیجو۔اس لئے ہر جمعہ کو یہ اہتمام خاص طور پر کرنا چاہئے کیونکہ دعاؤں کی قبولیت کا آنحضرت ﷺ پر درود بھیجنے سے بڑا تعلق ہے۔قرآن کریم میں بھی خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ إِنَّ اللَّهَ وَمَلَئِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلَّمُوا تَسْلِيمًا (الاحزاب : 57) کہ اللہ اپنے بندے پر رحمت نازل کرتا ہے اور اس کے فرشتے بھی اور اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو تم بھی اس نبی پر درود اور سلام بھیجتے رہو۔