خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 440 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 440

440 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 18 ستمبر 2009 اور بھی اس کے کئی مطلب ہیں۔عبادت کا خاص دن بھی ہے۔بہر حال سبت جو ہفتے کا دن ہے یہودیوں کے لئے ایک بہت متبرک اور خاص عبادت کا دن ہے۔اس میں ان پر بعض پابندیاں بھی لگائی گئی تھیں۔جن کو جیسا کہ میں نے کہا انہوں نے اپنی چالاکیوں سے تو ڑا۔اس بارہ میں قرآن کریم میں یوں ذکر آتا ہے کہ وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِينَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِي السَّبْتِ (البقرة : 66 ) اور تم ان لوگوں کو جنہوں نے سبت کے بارے میں زیادتی کی تھی جان چکے ہو۔اور پھر اس زیادتی کی وجہ سے ان لوگوں کو سزا بھی دی گئی تو ان بھٹکے ہوئے یہودیوں کا اس سورۃ میں ذکر کر کے پھر بايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا کہہ کر مسلمانوں کو اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ تم نے جمعہ کا حق ادا کرنا ہے۔یہ اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ اگر تم اپنے اس مقدس دن کا حق ادا نہیں کرو گے تو تم بھی اس سزا کے سزاوار ٹھہر سکتے ہو۔ہر قوم کی طرح مسلمانوں کا بھی سبت کا دن ہے اور ہمارا سبت یہ جمعہ ہے۔پس ہر مسلمان کو اس دن کی خاص حفاظت اور اس کا حق ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور دعا بھی کرنی چاہئے۔اور اس کا حق اس طرح ادا ہو سکتا ہے کہ جب بھی جمعہ کی نماز کے لئے بلایا جائے تو مومنوں کو اپنے تمام کام اور کاروبار بند کر کے فورا مسجد کی طرف چل پڑنا چاہئے۔امام کا خطبہ سننے کے لئے فورا مسجد کی طرف دوڑنا چاہئے۔اگر کوئی بہانہ جو یہ کہے کہ ہمیں ان ملکوں میں یا آج کل دنیا میں اذان کی آواز تو سنائی نہیں دیتی تو اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں دوسرے انتظام کر دیئے ہیں۔گھڑیوں کا انتظام کر دیا ہے۔اب تو فونوں میں بھی گھنٹی کی بجائے مختلف آواز میں لوگ ریکارڈ کرتے ہیں جو بجتی ہیں ، سنائی جاتی ہیں۔مجھے اس کا تجربہ تو نہیں کہ خاص وقت پہ الارم کے لئے بھی اذان کی یہ آواز سنائی دی جاسکتی ہے کہ نہیں۔اگر یہ ہوسکتا ہے تو پھر اس پر اذان کی آواز ریکارڈ کرنی چاہئے۔اس کا دوہرا فائدہ ہوگا بلکہ کئی فائدے ہو سکتے ہیں۔جمعہ کے وقت کے لئے جہاں اذان کی آواز خود اپنے آپ کو جمعہ کی طرف توجہ دلائے گی وہاں اردگرد کے لوگ بھی توجہ کریں گے اور اذان کی یہ آواز سننے والوں کی توجہ کھینچنے کا باعث بنے گی اور یہ تبلیغ کے راستے کھولنے کا ذریعہ بھی بن جائے گی۔لیکن بہر حال جوصورت بھی ہو سادہ الارم کی آواز بھی یاد دہانی تو کروا سکتی ہے۔پس جمعہ کی اہمیت کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس ضمن میں جو وضاحت کی ہے وہ یقینا اس زمانے کے لئے سو فیصد حقیقی اور صحیح وضاحت ہے کہ اس زمانے میں نايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا سے مراد وہی قوم ہوسکتی ہے اور ہے جو سیح موعود کو ماننے والی ہے۔حقائق الفرقان جلد چہارم صفحه 123-122 مطبوعہ ربوہ) اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سے مراد عام مسلمان بھی ہیں لیکن اس صورت میں مسیح موعود کے زمانہ کے ساتھ جمعہ کی نماز کی اہمیت کو ملانا خاص طور پر مسیح موعود کو ماننے والوں کے لئے بہت اہم ہے۔دوسرے غیر احمدی مسلمان تو با وجود مسلمان کہلوانے کے اور مومن کہلوانے کے ایمان لانے والے کہلوانے کے مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے