خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 435
435 خطبه جمعه فرموده 11 ستمبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم أَكْبَرَ إِلَّا فِى كتب مُّبِينٍ (یونس :62) اور تو کبھی کسی خاص کیفیت میں نہیں ہوتا اور اس کیفیت میں قرآن کی تلاوت نہیں کرتا۔اسی طرح تم اے مومنو! کوئی اچھا عمل نہیں کرتے مگر ہم تم پر گواہ ہوتے ہیں جب تم اس میں مستغرق ہوتے ہو اور تیرے رب سے ایک ذرہ برابر بھی کوئی چیز چھپی نہیں رہتی۔نہ زمین میں اور نہ آسمان میں اور نہ ہی اس سے چھوٹی اور نہ کوئی بڑی چیز ہے مگر کھلی کھلی کتاب میں تحریر ہے۔یہ آیت اللہ تعالیٰ کی شان کا اظہار ہے۔ہر چیز پر اللہ تعالیٰ کی نظر کا اظہار ہے۔غائب اور حاضر اور دور اور نزدیک اور چھوٹی اور بڑی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔پس یہ اعلان ہے مومن کے لئے اور غیر مومن کے لئے بھی مسلمان کے لئے بھی اور کافر کے لئے بھی کہ یہ عظیم کتاب کامل علم رکھنے والے خدا کی طرف سے اتاری گئی ہے اور اس میں تمام قسم کے علوم ، واقعات، انذاری خبریں اور اس کے ماننے والوں کی ذمہ داریوں کے بارہ میں بھی بتا دیا گیا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی خاص کتاب ہے اسی لئے اس کتاب کے نازل ہونے کے بعد اس کو اللہ تعالیٰ نے محفوظ بھی رکھا ہوا ہے اور اس کے نازل ہونے کے بعد نہ اس کا انکار کرنے والے کے لئے راہ فرار ہے اور نہ ہی اس کو ماننے کا دعوی کر کے عمل نہ کرنے والوں کے لئے کوئی عذر رہ جاتا ہے۔پس ماننے والوں کو بھی ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ جب صداقت کا اقرار کیا ہے تو اپنے قبلے بھی درست رکھنے ہوں گے۔اپنی نیتوں کو بھی صحیح نہج پر رکھنا ہوگا۔اپنے نفس کا جائزہ بھی لیتے رہنا ہو گا۔صرف یہ کہنا کہ ہم قرآن کریم کو پڑھتے ہیں اور یہ کافی ہے۔یہ کافی نہیں ہے۔صرف یہ کہنا کہ ہم اس کے ذریعہ سے دنیا کو اپنی طرف بلاتے ہیں تو یہ کافی نہیں ہے۔بلکہ یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اس کے پڑھنے سے ہمارے اندر کیا تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ان تبدیلیوں کی وجہ سے دوسرے ہم سے کیا اثر لے رہے ہیں۔اُن میں کیا تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہیں۔اُن کا اسلام کی طرف کیسا رجحان ہو رہا ہے۔اللہ تعالیٰ کسی کا رشتہ دار نہیں ہے۔جب اس نے ہر بات کھول کر قرآن کریم میں بیان کر دی۔جب اس نے اپنے وعدے کے مطابق زمانے کا معلم بھیج دیا تو پھر اس بات پر ماننے والوں کو جوابدہ ہونا ہو گا کہ اگر تم نے اپنے اوپر اس تعلیم کو لاگو کرنے کی کوشش نہیں کی تو کیوں نہیں کی ؟ اور منکرین کو بھی جواب دینا ہوگا۔ان کی بھی جواب طلبی ہوگی کہ جب اتنی واضح تعلیم اور نشانات آگئے تو تم نے امام کو کیوں قبول نہیں کیا۔اور جہاں تک منکرین کا تعلق ہے ان کا معاملہ تو خدا تعالیٰ کے پاس ہے۔( وہی جانتا ہے کہ ان سے ) وہ کیا سلوک کرتا ہے۔لیکن ہمیں اپنا معاملہ صاف رکھتے ہوئے اس کتاب کی تلاوت اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق دے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام قرآن کریم کے فضائل کا ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس قرآن نہ ہوتا اور حدیثوں کے یہ مجموعے ہی مایہ ناز ایمان و اعتقاد ہوتے ، تو ہم قوموں کو شرمساری سے منہ بھی نہ دکھا سکتے۔میں نے قرآن کے لفظ میں غور کی۔تب مجھ پر کھلا کہ اس مبارک لفظ میں ایک زبر دست پیشگوئی