خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 29
29 خطبه جمعه فرمودہ 16 جنوری 2009 خطبات مسرور جلد هفتم نے کی ہیں اور کون کون سی برائیاں کی ہیں۔پھر اگر نیکیوں کی زیادہ تو فیق ملی ہوگی ، اگر شام نے یہ گواہی دی ہوگی کہ تم نے ڈرتے ڈرتے دن بسر کیا تو شکر گزاری کے جذبے کے تحت ایک مومن پھر اللہ تعالیٰ کے حضور مزید جھکے گا اور ایک مومن کو کیونکہ نفس کے دھو کے کا بھی خیال رہتا ہے اس لئے وہ پھر خدا تعالیٰ سے یہ عرض کرتا ہے کہ اگر میرا جائزہ جو میں نے شام کو لیا ہے نفس کا دھوکہ ہے تو پھر بھی مجھ پر رحم کر اور بخش دے اور مجھے نیکیوں کی توفیق دے اور اگر کھلی برائیاں سارے دن کے اعمال میں نظر آ رہی ہیں تو پھر بھی اللہ تعالیٰ کے حضور بخشش اور رحم کے لئے ایک مومن جھکتا ہے۔آیت کے اگلے الفاظ اسی طرف توجہ دلاتے ہیں اور دعا کی طرف مائل کرتے ہیں۔یہ الفاظ بھی تزکیہ نفس کے لئے جامع دعا ہیں۔کیونکہ تزکیہ نفس ہی ہے جو خدا تعالیٰ کے قریب کرتا ہے اور بندہ دعا کے ذریعہ سے پھر اللہ تعالیٰ کا قرب پاتا ہے اور یہ دعائیں کیونکہ خدا تعالیٰ نے سکھائی ہیں اس لئے اگر نیک نیتی سے کی ہوں اور دل سے نکلی ہوں تو اللہ تعالیٰ کے حضور قبولیت کا درجہ پاتی ہیں۔پہلے دعا یہ سکھائی کہ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا۔یعنی اے اللہ ! اگر ہم سے بھول چوک ہو جائے یا کوئی خطا ہو جائے تو ہمیں سزا نہ دینا۔ایک مومن یہ عرض کرتا ہے کہ ہم اپنے ایمان میں ترقی کرنے کی ہمیشہ کوشش کرتے رہیں گے۔اپنی عبادتوں کے معیار بلند کرنے کی ہمیشہ کوشش کرتے رہیں گے۔تیرے تمام احکامات پر عمل کرنے کی ہمیشہ کوشش کرتے رہیں گے۔حقوق العباد کی ادائیگی کے لئے ہمیشہ کوشش کرتے رہیں گے۔لیکن پھر بھی ایک بشر ہونے کے ناطے اگر ہم کبھی غیر ارادی طور پر یا اپنی سنتی کی وجہ سے ان تمام باتوں پر عمل کرنا بھول جائیں یا اگر ہم سے ان کاموں کی ادائیگی کے دوران کوئی غلطی ہو جائے ، نیکی کا کام کرنے کے دوران بھی شیطان پھسلا دے اور وہ نیکی دوسرے کے لئے تکلیف کا باعث بن جائے جبکہ خود اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ فرمایا ہوا ہے کہ صدقہ و خیرات کرو لیکن ایسا صدقہ یا نیکی جس کے پیچھے تکلیف پہنچانا یا احسان جتانا ہو اس کو اللہ تعالیٰ نے ناپسند فرمایا ہے۔اس دعا کے ساتھ یہ مدد مانگی کہ کبھی ایسی صورت ہو جائے تو ہمارا مواخذہ نہ کرنا بلکہ ہمیں اپنے رحم اور فضل سے سیدھے راستے پر ڈال دینا تا کہ ہمارا کوئی عمل تیری رضا کے حاصل کئے بغیر نہ ہو۔پھر فرمایارَبَّنَا وَلَا تَحْمِلُ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا یعنی اے خدا! ہم پر وہ ذمہ داری نہ ڈالنا جو تو نے ان لوگوں پر ڈالی جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں۔یعنی ہم سے کوئی ایسا فعل سرزد نہ ہو جو تیری رضا کے خلاف ہو۔ہم ہمیشہ تیرے احکامات پر عمل کے پابندر ہیں اور ان لوگوں کی طرح نہ بن جائیں جو ہم سے پہلے گزرے اور جنہوں نے تیرے احکامات کو پس پشت ڈال دیا اور تیری ناراضگی کے مورد بن گئے۔پس ہمیں تو ہر کام کے کرنے کے لئے تیری مدد کی ضرورت ہے۔کبھی ایسا وقت نہ آئے کہ ہماری شامت اعمال ہمیں تجھ سے دور لے جائے۔کبھی ایسا وقت نہ آئے کہ ہم تیرے احکامات پر عمل کرنے والے نہ ہوں۔یہ تو ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسا بوجھ انسان پر نہیں ڈالتا جو اس کی طاقت اور وسعت سے باہر ہو۔پس انسان کی کمزوریاں ہی اسے ان نیکیوں سے دور لے