خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 427
خطبات مسرور جلد ہفتم 427 خطبه جمعه فرموده 11 ستمبر 2009 پھر ایک دوسری حدیث میں آتا ہے۔انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت می نے فرمایا کہ مَنْ صَلَّى صَلوتَنَا وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَأَكَلَ ذَبِيحَتَنَا فَذلِكَ الْمُسْلِمُ الَّذِى لَهُ ذِمَّةُ اللهِ وَذِمَّةً رَسُولِ اللهِ فَلا تُخْفِرُوا اللهِ فِي ذِمَّتِهِ۔( صحیح بخاری کتاب الصلوۃ باب فضل استقبال القبلۃ حدیث نمبر 391) حضرت انس بن مالک کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص ہماری طرح نماز پڑھے اور اس میں ہمارے قبلہ کی طرف منہ کرے، ہمارا ز بیجہ کھائے وہ مسلمان ہے۔جس کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ اور اس کے رسول ملے نے لی ہے۔پس اللہ کی ذمہ داری کی بے حرمتی نہ کرو۔اسے بے اثر نہ بناؤ اور اس کا وقار نہ گراؤ۔پس علماء جو یہ کہتے ہیں اُن سے میری درخواست ہے کہ اپنے اسلام کو پیٹینٹ (Patent) نہ کروائیں۔ایسا اسلام پیش نہ کریں جو اللہ اور اس کے رسول کی تعریف کے مخالف ہے۔اسلام وہی ہے جس کی تعریف آنحضرت می نے فرمائی ہے۔ہمیں تو اس تعریف کے تحت آنحضرت ﷺ نے مسلمان قرار دے دیا ہے اور اس کے بعد نہ ہمیں کسی مولوی کے سرٹیفیکیٹ کی ضرورت ہے اور نہ کسی پارلیمنٹ کے سرٹیفیکیٹ کی ضرورت ہے۔اسی ضمن میں ایک اور بات بھی میں بیان کر دوں۔گزشتہ دنوں کسی اخبار کے حوالے سے مجھے ایک خبر کسی نے بھجوائی۔اس کی انہوں نے فوٹو کاپی نکال کے یا اس کا پرنٹ نکال کے مجھے بھجوا دی۔احمدیوں میں ایسی خبروں کو میرے علم میں لانے کے لئے بھی اور شاید میری رائے پوچھنے کے لئے بھی بھجوانے کا شوق ہے۔اور خبر تھی الطاف حسین صاحب کے حوالے سے جو ایم کیوایم کے لیڈر ہیں کہ انہوں نے احمدیوں کے حق میں کھل کر بیان دیا ہے اور احمدیوں کے ساتھ پاکستان میں جو کچھ زیادتی اور ظلم ہورہا ہے، اس کی کھلی کھلی مذمت کی ہے کہ یہ غلط اقدام کئے جارہے ہیں۔غلط باتیں کی جارہی ہیں۔جب یہ خبر پہنچی تو پریس کے نمائندوں کو چونکہ خبر کو سنسنی خیز کرنے کا بڑا شوق ہوتا ہے کسی اخبار نے شاید اس پر یہ خبر لگا دی کہ مرزا مسرور احمد اور الطاف حسین کی میٹنگ ہوئی لندن میں اور انہوں نے منصوبہ بندی کی ہے کہ پنجاب میں اور پاکستان میں کس طرح ایم کیوایم کو فعال کیا جائے۔جہاں تک الطاف حسین صاحب کے بیان کا تعلق ہے ہر محب وطن پاکستانی میرے خیال میں یہ چاہے گا کہ ملک میں امن ہو اور ملائیت کا خاتمہ ہو اور فرقہ واریت اور مذہبی منافرت کو ملک سے باہر نکالا جائے۔بڑی خوشی کی بات ہے۔مجھے اس بات پر خوشی ہوئی کہ الطاف حسین صاحب نے یہ بیان دیا اور جرأت کا مظاہرہ کیا بلکہ اس دفعہ کافی اچھا بیان دے کر کافی جرأت کا مظاہرہ کیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ ملک میں امن دیکھنا چاہتے ہیں۔فرقہ واریت اور مذہبی منافرت کو ختم کرنا چاہتے ہیں تا کہ ملک ترقی کرے۔نیتوں کو تو اللہ بہتر جانتا ہے۔ہم کسی کی نیت پر تو شبہ نہیں کر سکتے۔اللہ تعالیٰ ان کو اس نیک مقصد کامیاب کرے اور کبھی وہ سیاست یا کسی سیاسی مصلحت کی بھینٹ نہ