خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 426
426 خطبه جمعه فرموده 11 ستمبر 2009 خطبات مسرور جلد هفتم اسے توڑ کر گندے نالوں میں بہایا جاتا ہے۔اُس وقت ان کو خیال نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ کے نام کی بے حرمتی ان سرکاری کارندوں کے ذریعہ سے ہورہی ہے۔اُس وقت تک رسول ان کو نظر نہیں آ رہی ہوتی۔پس جب یہ چیزیں نظر نہیں آتیں تو اللہ تعالیٰ کی تقدیر پھر اپنا کام دکھاتی ہے۔پاکستان میں علماء کہلانے والوں کی جہالت کا یہ حال ہے کہ ایک پروگرام کرنے والے کمپیئر ہیں، مبشر لقمان صاحب۔بہر حال بڑی جرات سے وہ پروگرام کر رہے ہیں۔ٹی وی پران کا پروگرام آیا۔کتنی دیر جاری رہتا ہے۔کس حد تک بے خوف رہتے ہیں یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔لیکن بہر حال ان کا ایک پروگرام آیا جب اس میں احمدیوں کا ذکر ہوا تو ایک عالم صاحب وہاں بیٹھے جواب دے رہے تھے اور جس طرح کو کا کولا کا ٹریڈ مارک ہے اور اس نام سے کوئی اور کمپنی کوکا کول نہیں بنا سکتی ور نہ پکڑی جائے گی اسی طرح مسلمان صرف ہم کہلا سکتے ہیں اور احمدی اپنے آپ کو مسلمان کہیں گے تو ان کو سزا ملے گی۔ایسے فتوے دینے والے یہ علماء ہیں جن کے بارہ میں حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ایک زمانہ میں انتہائی جاہل اشخاص کو لوگ اپنا سردار بنالیں گے اور ان سے جا کر مسائل پوچھیں گے اور وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے۔پس خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔( صحیح بخاری کتاب العلم باب كيف يقبض العلم حدیث (100) مسلمان کون ہے ؟ میں اس کی کسی لمبی علمی بحث میں نہیں پڑنا چاہتا لیکن یہ واضح ہو کہ کامل فرمانبردار اور آنحضرت ﷺ کے تمام حکموں پر عمل کرنے والے اور قرآن کریم کی پیروی کرنے والے اگر کوئی ہیں ، مسلمان کی تعریف میں آتے ہیں تو وہ احمدی ہیں۔دوا حادیث بھی اس بارہ میں پیش کر دیتا ہوں جس سے مسلمان کی وہ تعریف واضح ہو جاتی ہے جو آنحضرت میں نے فرمائی ہے اور یہی حقیقی تعریف ہے، نہ کہ ان علماء کی تعریف جو کوکا کولا کے پیٹنٹ (Patent) نام کو اسلام کے نام کے ساتھ ملانا چاہتے ہیں۔جہالت کی انتہا ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے۔ابی مالک روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مَنْ قَالَ لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ وَكَفَرَ بِمَا يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَرُمَ مَالُهُ وَدَمُهُ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ۔(مسلم کتاب الإيمان باب الامر بقتال الناس حتى يقولوا لا اله الا الله حديث (38) کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے یہ اقرار کیا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور انکار کیا ان کا جن کی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جاتی ہے تو اس کے جان و مال قابل احترام ہو جاتے ہیں۔(ان کو قانونی تحفظ حاصل ہو جاتا ہے )۔باقی اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔وہی جانتا ہے کہ اس کی نیت کیا ہے اور وہ اس کی نیت کے مطابق اسے بدلہ دے گا۔کلمہ پڑھنے کے بعد ، لا إلهَ إِلَّا اللہ کہنے کے بعد، وہ بندوں کی گرفت سے آزاد ہو جاتا ہے۔