خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 28
28 خطبہ جمعہ فرمودہ 16 جنوری 2009 خطبات مسرور جلد هفتم کو تو مانے اور کچھ کو نہ مانے اور رڈ کر دے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اُسوہ تمہارے لئے رسول اللہ ﷺ کا قائم ہو گیا۔اس لئے ایمان کی انتہا ئیں حاصل کرنے کے لئے اس اُسوہ پر چلنے کے راستے تلاش کرو اور یہ کبھی خیال نہ آئے کہ بعض احکامات ہماری طاقت سے باہر ہیں۔اللہ تعالیٰ نے مختلف حالتوں میں بعض ایسی سہولتیں بھی دے دی ہیں۔اسلام میں دین کے معاملے میں سب سے زیادہ سہولتیں ہیں۔یہ کہا ہی نہیں جاسکتا کہ بعض احکامات ہماری پہنچ سے باہر ہیں جن پر عمل نہیں ہوسکتا۔اگر انسان دین کے معاملہ میں ضرورت سے زیادہ سہل پسند نہ ہو تو کوئی حکم ایسا نہیں جو بو جھ لگ رہا ہو۔اگر دنیاوی کاموں کے لئے انسان محنت اور کوشش کرتا ہے تو دین کے معاملے میں کیوں محنت اور کوشش نہیں کر سکتا ؟ پس یہ واضح ہو کہ آخری دو آیات پڑھ لینے سے انسان تمام دوسرے احکامات سے آزاد نہیں ہو جاتا بلکہ مطلب یہ ہے کہ جو غور کر کے پڑھے گا پھر وہ اس پر عمل بھی کرے گا۔قیام اللیل سے انسان کس طرح مستغنی ہو سکتا ہے؟ جبکہ آنحضرت ﷺ نے اس کا نمونہ ہمارے سامنے پیش فرما دیا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ آپ کا اُسوہ ہمارے لئے قابل تقلید اور پیروی کرنے کے لئے ہے۔اگر اس کا کوئی مطلب ہو سکتا ہے تو اتنا کہ ان آیات پر غور کرنے سے اللہ تعالیٰ کی مدد سے ایمان میں اتنی ترقی ہوگی کہ عبادتوں کے لئے جاگنا اور توجہ دینا کوئی بوجھ نہیں لگے گا۔بخاری میں اس حدیث کے الفاظ صرف اس قدر ہیں کہ مَنْ قَرَأَ بِالْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ گفتاه یعنی جس نے رات کے وقت سورۃ بقرہ کی دو آیات پڑھیں تو وہ دونوں آیات اس کے لئے کافی ہو گئیں۔( بخاری کتاب فضائل القرآن باب فضل سورة البقرة حديث 5009) اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے اور اس کا رحم اور بخشش مانگنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ فضل فرمائے گا تو پھر ایمان میں یہ ترقی ہوتی ہے جو کافی ہوتی ہے اور عبادات اور نیک اعمال کی طرف پھر توجہ پیدا ہو گی۔ورنہ اگر یہ خیال ہو کہ صرف آیات پڑھ لینا کافی ہے تو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمانے کے بعد کہ کسی نفس پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالا جاتا پھر یہ کیوں کہا کہ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ۔یعنی انسان اگر اچھا کام کرے گا تو اس کا فائدہ اٹھائے گا اور اگر برا کام کرے گا تو نقصان اٹھائے گا۔صرف آیت کے یا ان آیات کے الفاظ دوہرا لینے سے تو مقصد پورا نہیں ہوتا بلکہ یہاں توجہ اس طرف کروائی کہ اپنی عبادتوں اور اپنے اعمال پر ہر وقت نظر رکھنی پڑے گی اور جب یہ توجہ ہوگی تو اللہ تعالیٰ کے پیار کی نظر بھی اپنے بندے پر پڑے گی۔اللہ تعالیٰ کے بندے کی ایمان میں ترقی اسے اللہ تعالیٰ کے قریب کر رہی ہوگی اور اس کی بخشش کا سامان کرے گی نہ کہ پھر جس طرح عیسائی کہتے ہیں اس کو کسی کفارے کی ضرورت ہوگی۔پس روزانہ پھر جس طرح یہ آیت پڑھنے سے نیکیوں کے کمانے کی طرف توجہ رہے گی۔ایک مومن رات کو جائزہ لے گا کہ کون کون سی نیکیاں میں