خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 409
409 خطبه جمعه فرمود : 28 اگست 2009 خطبات مسرور جلد هفتم کرلیا۔لائبریری میں، دفتر میں بھی ، گھر میں بھی، کہیں بھی نہیں ملے۔عصر کی نماز پہ جب آئے تو حضرت خلیفہ مسیح الثالث نے پوچھا کہ تلاش کر رہا ہوں کہاں تھے؟ انہوں نے کہا میں لائبریری میں تھا، مسئلہ یہ ہے کہ لائبریری کا کارکن باہر سے تالہ لگا کے چلا گیا تھا اور مجھے اندر جانا تھا۔بجائے اس کے کہ میں وقت ضائع کرتا میں دیوار پھلانگ کے اندر چلا گیا اور اندر بیٹھا کام کر رہا تھا۔تو یہاں بھی اپنا فرض ادا کیا اور بڑے طریقہ سے کارکن کی غلطی کی طرف بھی اشارہ کر دیا۔جیسا کہ میں نے بتایا کہ جیل میں بھی رہے ہیں اور جیل میں مشقت لی جاتی تھی۔لیکن جیل میں جب تک رہے کبھی اظہار نہیں کیا کہ مجھ سے مشقت لی جاتی ہے ہمیں بڑا پریشان ہوں۔جب رہائی ہوئی تب بتایا کہ مجھ سے وہاں مشقت لی جاتی رہی ہے۔ہر کام خود کرنے کے عادی تھے، کتابوں کی جلدیں بھی خود کر لیا کرتے تھے اور گھر میں جیسا کہ میں نے بتایا کہ لائبریری رکھی ہوئی تھی اس لائبریری کا مقصد بھی یہی تھا کہ رات کے وقت بھی جب بھی کہیں کسی وقت بھی خلیفہ اسیح کی طرف سے کوئی کام آئے یا حوالے کی تلاش آئے تو فوری طور پر میں مہیا کر دوں اور لائبریری کھلنے کا انتظار نہ کرنا پڑے۔شروع میں سائیکل بھی نہیں تھا۔ہر جگہ پیدل ہی جایا کرتے تھے۔مجھے یاد ہے جب میں نے سنا تو مجھے خود یہ خیال آیا تھا۔جب خدام الاحمدیہ کے اجتماع ہوا کرتے تھے تو ٹی آئی کالج دور تھا اس کی گراؤنڈ میں ، گھوڑ دوڑ گراؤنڈ کہلاتی ہے وہاں تک یہ انجمن کے کوارٹروں سے پیدل چل کر جایا کرتے تھے۔باوقار چال، پگڑی ، کوٹ ، ہاتھ میں سوٹی۔حالانکہ اس وقت خدام الاحمدیہ میں تھے۔شاید سائیکل نہیں لے سکتے ہوں گے۔کیونکہ اس وقت جماعت کے حالات ایسے نہیں تھے۔مبلغین اور واقفین زندگی کے الاؤنس بھی بہت تھوڑے تھے۔ان کے بیٹے نے مجھے لکھا کہ واقعی وہ سائیکل نہیں خرید سکتے تھے اس لئے سارے ربوہ میں جہاں بھی جانا ہوتا تھا پیدل ہی پھرا کرتے تھے۔پھر 1978-79ء میں ان کو دفتر کی طرف سے سائیکل ملی۔جب بھی خلفاء کی مجلس عرفان میں بیٹھتے تھے تو ہمیشہ گردن جھکا کے بیٹھا کرتے تھے اور یہ فرمایا کرتے تھے کہ حضرت خلیفہ مسیح الاول کی بھی یہی عادت تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے گردن جھکا کر بیٹھے تھے۔ان کے بیٹے نے لکھا کہ ایک دفعہ حضرت مولوی صاحب بڑے خوش خوش گھر میں آئے ہم نے پوچھا کہ کیا وجہ ہے انہوں نے کہا حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کی ملاقات کے لئے گیا تھا تو تھوڑی دیر کے لئے کسی کام سے حضور اندر تشریف لے گئے۔آپ کی جوتی باہر پڑی تھی تو مجھے اس کو اپنے رومال سے صاف کرنے کا موقع مل گیا۔اس بات پہ بڑے خوش تھے۔کسی دوست نے بالکل صحیح لکھا ہے کہ جس کام کے لئے دنیا میں ادارے بنائے جاتے ہیں وہ اکیلے اس شخص نے کیا۔1982ء سے پہلے آپ کے پاس کوئی مستقل مربی بھی نہیں تھا اور اکیلے ہی آپ زیادہ تر تاریخ