خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 401 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 401

401 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبه جمعه فرمود : 28 اگست 2009 رمضان کے روزے بھی خاص اہتمام سے رکھ رہا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خالص ہو کر میری تلاش کرنے والو! میں تمہارے قریب ہوں۔جو بھی مسلمان ہے اور حقیقی مسلمان بننے کے لئے کوشاں ہے۔آنحضرت ﷺ پر اتری ہوئی کامل شریعت پر ایمان لانے والا ہے۔اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنے والا ہے۔خدا تعالیٰ کی تلاش میں آنحضرت ﷺ کی سنت اور باتوں پر عمل کرنے والا ہے۔اللہ تعالیٰ کی محبت کے حصول کے لئے آنحضرت ﷺ سے محبت کرنے والا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں ان کے قریب ہوں اور جب بھی میرے بندے مجھے پکارتے ہیں میں جواب دیتا ہوں۔پس اگر اللہ تعالیٰ سے سوال جواب کا سلسلہ شروع کرنا ہے تو سب سے پہلے خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کی تلاش ضروری ہے۔اور تلاش کے لئے پھر اللہ تعالیٰ نے خود ہی طریق بھی بتا دیا جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے کہ قرآن کی حکومت اپنے پر قائم کرنا۔سنت رسول ﷺ پر عمل کرنا اور عشق رسول عربی کی انتہا کرنا۔اور قرآن کریم اور حضرت ﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق جوز مینی اور آسمانی نشانوں کے طور پر پوری بھی ہو چکی ہیں اس زمانہ کے امام سے کامل وفا کرنا۔آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کی بیعت میں خالص ہو کر آنا۔صرف مسلمان ہونے کا اعلان کرنا کافی نہیں ہے۔یہاں پھر وہی مضمون بیان ہوتا ہے کہ اَسْلَمْنَا کافی نہیں ہے بلکہ يُؤْمِنُوا بِٹی کے مضمون کو سمجھو۔اپنے ایمان کو کامل کرو اور ایمان کامل کرنے کی اپنی تعریفیں نہ کرو بلکہ اُس راستہ سے کامل ایمان کی طرف آؤ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے بتائے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وليُؤْمِنُوا ہی مجھ پر ایمان لانے کا معیار کس طرح حاصل ہوگا؟ یہ اس وقت حاصل ہوگا جب فَلْيَسْتَجِيبُوا لِٹی پر بھی عمل ہوگا۔یعنی میری بات پر لبیک کہو گے، میری باتوں کو سننے والے ہو گے اور یہ عمل اس وقت ہوگا جب قرآن کریم کے تمام حکموں پر عمل کرنے کی کوشش ہو رہی ہوگی۔تقویٰ کے راستوں پر چلنے کے لئے ، خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی بات پر لبیک کہنے کے لئے حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے کی کوشش خالص ہو کر کرنے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ کی عبادات کی طرف بھی خالص ہو کر توجہ دینے کی ضرورت ہے اور بندوں کے حقوق ادا کرنے کے لئے اخلاق فاضلہ میں ترقی کی بھی ضرورت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ”جو لوگ ان دونوں باتوں کے جامع ہوتے ہیں ، یعنی حقوق اللہ اور حقوق العباد کے ، وہی متقی کہلاتے ہیں۔انہی کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ ان کو خدا تعالیٰ کی تلاش ہے۔انہی کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی بات پر لبیک کہنے والے ہیں۔اگر بعض اخلاق تو ہیں اور بعض حقوق کی ادائیگی تو ہے لیکن بعض کو نظر انداز کیا جا رہا ہے تو اسے متقی نہیں کہا جا سکتا۔پس اپنی دعاؤں کی قبولیت کے لئے اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کے لئے ، تقویٰ کا یہ معیار ہمیں حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔پس ہمیں اس رمضان میں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ہم خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے بن جائیں۔اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو سمجھنے والے اس کا حق ادا کرنے کی تمام تر استعدادوں کے ساتھ کوشش کرنے والے بن جائیں۔اپنی نمازوں کا حق ادا کرنے والے بن جائیں۔کئی لوگوں سے یہ جواب سن کر مجھے بڑی حیرت بھی ہوتی ہے اور پریشانی بھی کہ ہم کوشش کرتے ہیں