خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 400 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 400

400 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبه جمعه فرمود : 28 اگست 2009 نیکیاں بجالانے والے اور عبادت کرنے والے جہنم سے محفوظ کئے گئے ہیں اور ان کے شیطانوں کو قید کر دیا گیا ہے ان تمام قسم کی برائیاں کرنے والوں کو بھی جہنم سے محفوظ کر دیا گیا ہے اور ان کے شیطانوں کو قید کر دیا گیا ہے؟ اگر ان کے شیطانوں کو بھی قید کر دیا جاتا تو یہ شیطانی فعل ان سے سرزد ہی نہ ہوتے بلکہ وہ نیکیاں کرنے والے ہوتے۔پس یہ معاملہ بعض نسبتوں اور اعمال کے ساتھ مشروط ہے۔جو خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے رمضان سے فیضیاب ہونے کی کوشش کرے گا خدا تعالیٰ عام حالات سے بڑھ کر اس کے لئے یہ سامان مہیا فرمائے گا۔کیونکہ وہ شخص جو روزہ دار ہے اور اس نیت سے روزہ رکھتا ہے کہ اللہ کو راضی کرے وہ خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ان سب برائیوں کو ترک کر رہا ہے بلکہ جائز باتوں کو بھی چھوڑ رہا ہے۔پس ہمیں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ان خاص سہولتوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے اس کے فضل کو مانگتے ہوئے اس کے حضور جھکنے کی ضرورت ہے۔وہ پیغام جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے ذریعہ، آنحضرت ﷺ کے صحابہ کے سوال پر یا امکان سوال پر دیا تھا وہ ہمیشہ کے لئے قرآن کریم میں محفوظ ہو کر ہمارے لئے خوشخبری کا پیغام بن گیا ہے۔جو آیت میں نے تلاوت کی ہے جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ روزوں کے احکام کے درمیان میں یہ آیت آتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنے قرب اور ان دعاؤں کی قبولیت کی خوشخبری دی ہے جو بندہ کرتا ہے اور جیسا کہ جو احادیث میں نے پیش کیں وہ بھی اس آیت کی وضاحت کرتی ہیں۔احادیث میں روزہ کے حوالے سے بعض اوامر ونواہی کا ذکر کیا گیا ہے۔یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے قریب آنے اور اپنا کر ب پانے اور اپنے بندے کی دعا کی قبولیت کا ذکر فرما کر بعض شرائط بھی عائد فرما دیں۔پہلی بات تو سَأَلَكَ عِبَادِی کہہ کر فرما دی کہ رمضان سے فیضیاب ہونا اور فیض پانا اور قبولیت دعا کے نظارے دیکھنا ہر ایرے غیرے کے لئے نہیں ہے۔فرمایا کہ ”میرے بندے ، وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کا عبد بننا چاہتے ہیں اور ہیں یہ قربتیں انہی کو ملنے والی ہیں۔وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے خاص بندے ہیں یا خاص بندے بننے کے خواہاں ہیں۔إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحہ: 5 ) کا اظہار ان کے ہر فعل سے ہو رہا ہے۔یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندوں کی یہ نشانی بتائی ہے کہ وہ سوال عنی کا کرتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ میرے بارے میں پوچھتے ہیں، مجھے تلاش کرتے ہیں۔ان کی خواہشات دنیا وی نہیں ہوتیں کہ خدا ملے تو بزنس بڑھانے کی دعا کرو۔اس سے بزنس کے لئے مانگو۔دوسری دنیاوی خواہشات کو پورا کرنے کی دعا کروں نہیں، بلکہ ان کی تڑپ پھر یہ ہوتی ہے کہ بتاؤ میرا اللہ کہاں ہے۔میں بے چین ہوں اپنے خدا کی تلاش میں۔دنیا دہریت کی طرف بڑھ رہی ہے۔خدا کے وجود کے خلاف کتابیں لکھی جارہی ہیں ایسے میں مجھے بھی اپنی فکر ہے کہ میں جو خدائے واحد پر ایمان لانے والا ہوں۔میری صرف ایک خواہش ہے کہ مجھے خدا تعالیٰ کی ذات کا اتنا عرفان حاصل ہو جائے کہ کوئی دنیاوی چیز اور دہریت کی چمک اور دھو کہ مجھے میرے احمدی مسلمان ہونے سے ہٹا نہ سکے۔اور اس خواہش کے پورا کرنے کے لئے میں