خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 391
391 خطبه جمعه فرموده 21 اگست 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم سے علمی اور روحانی فائدہ اٹھایا ہو گا۔اُسے صرف حظ اٹھانے تک ہی محدود نہ کریں بلکہ اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں۔جیسا کہ میں نے شروع میں کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کریں۔اپنے دلوں میں پاکیزگی پیدا کریں۔جلسے کو ہمیں صرف علمی اور ذوقی حفظ کا ذریعہ نہیں بنانا چاہئے اور نہ ہی ہم وقتی روحانی فائدہ اٹھانے والے ہوں۔بلکہ جیسا کہ میں نے سورۃ توبہ کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ جلسہ کی برکات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم وہ تمام خصوصیات کو اپنے اندر پیدا کرنے والے ہوں جن کا اس آیت میں ذکر ہے۔عبادت کرنے والے بھی ہوں۔سجدہ کرنے والے بھی ہوں اور رکوع کرنے والے بھی ہوں۔نیکیوں کا حکم دینے والے بھی ہوں۔برائیوں سے روکنے والے اور رکنے والے بھی ہوں۔اور ہوں گے ہم اس وقت جب خود اپنے آپ میں یہ ساری تبدیلیاں پیدا کریں گے۔تب ہی ہم برائیوں سے روکنے والے یہ سب کام کرنے والے ہو سکتے ہیں۔جلسہ کی خاص باتوں میں سے ایک یہ بھی تھی کہ اس سال مشرقی یورپ کے ممالک میں سے دس ممالک سے جلسہ جرمنی پر نمائندگی ہوئی ہے۔ان میں سے بلغاریہ ہے، ہنگری ہے ، رومانیہ ہے، مالٹا ہے، آئس لینڈ ہے، البانیہ، بوز نیا، میسیڈونیا، کسوو، لیتھو مینیا۔ان ملکوں نے اس دفعہ وہاں حاضر ہو کر جلسہ کے پروگرام سنے اور ان میں سے کچھ تعداد تو احمدیوں کی تھی اور بہت سے غیر مسلم یا غیر احمدی مسلمان تھے۔ان وفود سے ہفتہ کی شام کو ایک مشترکہ میٹنگ امیر صاحب نے رکھی ہوئی تھی۔لیکن پھر میں نے محسوس کیا کہ فائدہ تبھی ہو گا جب علیحدہ علیحدہ یعنی ہر گروپ سے ہر ملک سے علیحدہ علیحدہ ملاقات ہو اور وہاں کے حالات کے مطابق ان سے باتیں ہوں۔چنانچہ جلسہ ختم ہونے کے اگلے روز ان وفود سے علیحدہ ملاقات ہوئی۔جس میں میں نے ان کے تاثرات پوچھے۔ہر ایک نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ جلسہ کا جو انتظام تھا عجیب حیرت انگیز تھا۔ہر ایک نے جو احمدی نہیں تھے اس بات کا اظہار کیا کہ اب ہم نے جماعت کو قریب سے دیکھ لیا ہے۔جلسے کو بھی دیکھ لیا ہے۔اب ہم اپنے رابطے جماعت سے مزید مضبوط کریں گے اور اس بات پر بھی بلا استثناء سب کو حیرت تھی کہ اتنے بڑے مجمع کو سنبھالنا آسان نہیں ہے۔لیکن ابھی کیونکہ یہ دنیا دار ہیں اس لئے علم نہیں کہ مجمع کو خدا کی خاطر شامل ہونے والا خود سنبھالتا ہے۔والنٹیئر اور کارکن تو کم کام کر رہے ہوتے ہیں۔ہر شامل ہونے والا کیونکہ خدا کی رضا کے حصول کے لئے آتا ہے اس لئے وہ اپنے آپ کو خود سنبھال رہا ہوتا ہے۔اس لئے کسی پولیس فورس کی یا کسی اور چیز کی ضرورت ہی نہیں ہے۔اور ہر جلسہ پر ہمیشہ یہاں بھی ، وہاں بھی دنیا میں ہر جگہ پر جو غیر شامل ہوتا ہے اس کا یہی اظہار کرتا ہے۔ہر ایک نے یہ کہا کہ امن اور پیار کا ماحول بھی عجیب تھا۔یہ ہم نے تو کہیں نہیں دیکھا۔ہر ایک لگتا تھا کہ دوسرے کے جذبات کا خیال رکھ رہا ہے۔پھر یہ بھی ان کے لئے حیرت انگیز بات تھی کہ اتنے بڑے مجمع کو کھانا کھلانا اور بڑے آرام سے کھلانا اور ایسٹ یورپ میں تو ویسے بھی ڈسپلن اتنا نہیں