خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 390 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 390

خطبات مسرور جلد هفتم 390 خطبه جمعه فرموده 21 اگست 2009 بیلجیئم میں ایک انڈونیشین نژاد مرد اور بیلجیئم کی ان کی اہلیہ ہیں اور اسی طرح ایک نواحمدی مراکن اور اس کی ایک غیر احمدی کزن تھیں وہ اور کچھ افریقن لوگ آئے ہوئے تھے۔ان لوگوں سے بھی تربیتی اور تبلیغی موضوعات یہ باتیں ہوتی رہیں۔یہ انڈو نیشین دوست جن کا میں نے ذکر کیا ہے گزشتہ کئی دہائیوں سے بیلجیئم میں رہ رہے ہیں اور وہیں کہیں انہوں نے شادی کی لیکن ان کو خدا پر ایمان نہیں تھا۔یہ دونوں میاں بیوی جلسہ یو کے (UK) پر بھی تشریف لائے تھے اور آنے سے چند دن پہلے یعنی یو کے جلسے سے چند دن پہلے احمدی ہوئے تھے۔جلسہ پر جب یہاں آئے تو انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ میں تو خدا کے وجود کا قائل نہیں تھا اور یہ سمجھتا تھا کوئی خدا نہیں ہے لیکن جماعت کا لٹریچر پڑھ کر اور جو مبلغ ہیں ان سے باتیں کر کے میں خدا کے وجود کا قائل ہوا اور جب میں خدا کے وجود کا قائل ہو گیا تو اب اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ میں احمدی بھی ہو جاتا۔مراکن لڑکی جو احمدی ہوئی ہیں انہوں نے اپنے والدین کی طرف سے مختلف اعتراضات اٹھائے۔جو پرانے اعتراضات یہ جماعت پر ہمیشہ کرتے رہتے ہیں۔بہر حال ایک گھنٹے کے قریب کافی لمبی یہ مجلس چلتی رہی۔وہاں سے باہر نکلا ہوں تو افریقن اور بیلجیئن نو احمدی اور وہ لوگ جو احمدیت کے قریب ہیں اور دوستوں میں سے ہیں وہ بھی باہر کھڑے تھے ان سے ملاقات ہوئی۔ایک نوجوان جنہوں نے اپنا تعارف کرایا۔بیلجیئن تھے۔جو ایک سال ہوا ڈاکٹر بنے ہیں۔ہسپتال میں کام کر رہے ہیں۔جب ان سے تعارف ہوا تو ہمارے مبلغ اور امیر صاحب کہنے لگے کہ یہ احمدیت کے بڑے قریب ہیں لیکن ابھی بیعت نہیں کی۔ابھی مربی صاحب بات کر ہی رہے تھے کہ ڈاکٹر صاحب نے فوراً جواب دیا کہ UK کے جلسے پر جو عالمی بیعت ہوئی ہے اور جلسہ کا پروگرام میں نے دیکھا ہے میں نے تو اس وقت ہی بیعت کر لی تھی۔تو مربی صاحب اور امیر صاحب کو نہیں پتا تھا۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کا ایک خاص فضل ہے کہ خود لوگوں کو بھیجتا ہے۔یہ ہے نُوحِي إِلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ کا نظارہ۔بہر حال وہاں نمازوں کے بعد انہوں نے دستی بیعت بھی کی۔اس کا اظہار کیا کہ دستی بیعت کروں گا۔جرمنی کے جلسہ کے کارکنوں کے حوالے سے تو میں نے باتیں کی ہیں۔جرمنی کا جلسہ سب نے دیکھا ہے۔ایم ئی اے نے دنیا کو دکھایا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے کامیاب جلسہ تھا۔حاضری بھی 32 ہزار سے اوپر تھی۔اور گزشتہ جلسہ کے برابر تھی۔امیر صاحب کا بھی خیال تھا اور میرا بھی خیال تھا کہ گزشتہ سال سے شاید 6-7 ہزار حاضری کم ہو کیونکہ گزشتہ سال جو بلی کا جلسہ تھا۔لیکن جلدی جلسہ کرنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ سکولوں کی چھٹیاں تھیں اس لئے لوگ آئے اور اصل چیز تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب اپنا فضل فرماتا ہے تو ہمارے اندازے جو ہیں وہ دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔جلسہ سالانہ کے پروگرام اللہ تعالیٰ کے فضل سے بھر پور تھے۔سب نے تقریر میں سنیں۔مقررین کے خطابات