خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 382 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 382

382 خطبه جمعه فرمود 14 اگست 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم کر کے نماز پڑھتے ہیں جس طرح پہلے پڑھا کرتے تھے۔تو میں اس بات پر بچپن میں مولویوں کے جھوٹ پر حیران ہوا کرتا تھا کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں اور اس بات پر میرا حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان مضبوط ہوتا چلا گیا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے مخالفت بھی بچوں کے ایمان مضبوط کرتی رہی اور آج بھی کر رہی ہے۔طہ قزق صاحب کے جو والد تھے انہوں نے ایک خواب کی بنا پر بیعت کی تھی۔انہوں نے خواب میں دیکھا کہ ان کا ایک فوت شدہ رشتہ دار انہیں خواب میں کہتا ہے کہ اے حاجی محمد جلدی کرو احمدیوں نے مدینہ منورہ کو فتح کر لیا ہے۔چنانچہ اگلے روز انہوں نے حضرت شمس صاحب کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور طہا فرق صاحب خود بھی اخلاص میں بہت بڑھتے چلے گئے اور 70 کی دہائی میں انہوں نے جلسہ پر ربوہ آنا شروع کیا اور باقاعدگی سے جب تک ربوہ کے جلسے ہوتے رہے وہاں آتے رہے۔اس کے بعد یہاں کے جلسوں پر آتے رہے بلکہ حضرت خلیفہ امسیح الرابع جب ہجرت کر کے لندن آئے ہیں تو اگلے روز ہی وہ پہنچ گئے تھے۔خلافت سے بڑا وفا کا تعلق تھا۔ان کے ہر عمل سے اس کا اظہار ہوتا تھا۔جب بھی وہ ملتے تھے تو ان سے ایک فدائیت ٹپک رہی ہوتی تھی۔دوسال تک آتے رہے ہیں۔اللہ کے فضل سے 1/8 حصے کے موصی تھے اور وہاں جماعت کے حالات کیونکہ ایسے ہیں تو ان کو ڈر تھا کہ وصیت کی ادائیگی میں مشکلات آسکتی ہیں اس لئے بڑی فراخ دلی سے جماعت کی مالی امداد اور ذرائع سے کرتے رہتے تھے۔حضرت خلیفہ مسیح الرابع نے جب تفسیر کبیر کے عربی ترجمہ کا منصوبہ شروع کیا ان کی زندگی میں دو جلدیں چھپی تھیں۔اب گزشتہ چھ سال میں آٹھ چھپ گئی ہیں اور نویں بھی تیار ہو رہی ہے تو انہوں نے یہ وعدہ کیا تھا کہ میں اس ترجمہ کا سارا خرج دوں گا اور اب تک ان کے خرچ سے یہ شائع ہو رہی ہے۔ان کا گھر جو تھا وہ جماعت کا بڑا مرکز تھا۔مرکزی نمائندگان اور مبلغین کی بڑی عزت اور احترام کیا کرتے تھے۔گزشتہ چند ماہ سے زیادہ بیماری آگئی تھی، بیہوشی کی حالت بھی رہی ہے۔بہر حال 12 راگست کو اللہ تعالیٰ کو پیارے ہوئے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ان کے پسماندگان میں 3 بیٹے ، بیٹیاں اور 20 کے قریب پوتے پوتیاں ہیں۔ایک پوتے حسام قزق صاحب جو ہیں وہ جماعت کے ساتھ بہت زیادہ اخلاص کا تعلق رکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس تعلق کو مزید بڑھاتا چلا جائے۔اور ان کی باقی نسل کو بھی، اولا د کو بھی جماعت سے اخلاص و وفا میں بڑھاتا رہے اور ان پر اپنی مغفرت کی چادر ڈالے اور رحم کا سلوک فرمائے ان کے درجات بلند فرمائے ، اپنے پیاروں میں جگہ عطا فرمائے۔ابھی نماز جمعہ اور عصر جمع ہوں گی۔اس کے بعد میں انشاء اللہ ان کی نماز جنازہ غائب بھی ادا کروں گا۔الفضل انٹرنیشنل جلد 16 شماره 36 مورخہ 4 ستمبر تا 10 ستمبر 2009 صفحہ 5 تا صفحه 8