خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 378 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 378

378 خطبه جمعه فرمود 14 اگست 2009 خطبات مسرور جلد هفتم نے آپ کو خوش خلقی کی تلقین فرمائی۔پس جو کارکنان ہیں، ہمارے میں سے کام کرنے والے ہیں، ہمارا بھی یہ کام ہے کہ ان دور دراز سے آنے والے مہمانوں کی انتہائی خوش خلقی کے ساتھ خدمت کریں۔اور پھر کارکنوں کے لئے دوسری خوشی کی بات یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی خدمت کے ساتھ ساتھ وہ روحانی ماحول بھی انہیں میسر ہے جو اپنے نفسوں کو پاک کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔اور جو آنے والے مہمان ہیں وہ اگر سوچیں تو ان کے لئے بھی دوہری خوشی ہے۔اس کے لئے پھر انہیں خدا تعالیٰ کے آگے شکر کے جذبات سے سر جھکانے والا بننا چاہئے۔ایک خوشی تو یہ ہے کہ ہم ان لوگوں میں شامل ہوئے جو اس الہام کو پورا کرنے والے ہے کہ يَا تِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ اور دوسرے دور دراز کے سفر کر کے آنے کی وجہ سے اور اس جلسے میں شامل ہونے کی وجہ سے ان دعاؤں سے فیض پانے والے بھی بنے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے شامین جلسہ کے لئے کی ہیں۔پس جن لوگوں کے آنے کا الہام میں ذکر ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کے لئے آپ کے پاس آتے تھے یا آئے تھے۔اگر یہ بات ہر ایک اپنے ذہن میں رکھے تو ہر احمدی دوسرے کے لئے محبت اور مودت کا اظہار کرنے والا بن جائے اور عبادت گزار بنے کی کوشش کرنے والا بن جائے۔عبادتوں کی طرف رغبت پیدا ہو۔عبادتوں کے معیار بلند کرنے کی طرف توجہ پیدا ہو۔اور پھر جب استغفار کے ساتھ ، دعاؤں کے ساتھ اس کو قائم رکھنے کے لئے مستقل کوشش ہورہی ہوگی تو اللہ تعالیٰ ان کمزوریوں کو بھی دور کرنے کی توفیق عطا فرمائے گا۔جس کی وجہ سے آپس کے تعلقات متاثر ہورہے ہیں، عہدیداروں کو افراد جماعت سے اور افراد جماعت کو عہدیداروں سے شکایات پیدا ہورہی ہیں یا ہوتی رہتی ہیں۔پس اگر خالصتا اللہ تعالیٰ کی رضا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کے حصول کے لئے اس جلسہ میں شامل ہوتے ہیں تو ان تو قعات پر پورا اترنے کی ہم میں سے ہر ایک کو کوشش کرنی چاہئے جن کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہم سے توقع فرمائی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ بیعت کی حقیقت سے پوری واقفیت حاصل کرنی چاہئے اور اس پر کار بند ہونا چاہئے اور بیعت کی حقیقت یہی ہے کہ بیعت کنندہ اپنے اندر کچی تبدیلی اور خوف خدا اپنے دل میں پیدا کرے اور اصل مقصود کو پہچان کر اپنی زندگی سے ایک پاک نمونہ پیدا کر کے دکھاوے اگر یہ نہیں تو پھر بیعت سے کچھ فائدہ نہیں“۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ: 605-604 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) فرمایا: ” معاہدہ کر کے جان بوجھ کر اور سوچ سمجھ کر نا فرمانی کرنا سخت خطرناک ہے“۔پھر فرماتے ہیں ” جماعت کے افراد کی کمزوری یا برے نمونے کا اثر ہم پر پڑتا ہے اور لوگوں کو خواہ مخواہ اعتراض کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔پس اس واسطے ہماری طرف سے تو یہی نصیحت ہے کہ اپنے آپ کو عمدہ اور نیک نمونہ بنانے کی کوشش میں لگے رہو۔“ ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 456 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ )