خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 377
377 خطبه جمعه فرمود 140 اگست 2009 خطبات مسرور جلد هفتم ہوتے ہیں بعض واقعات ایسے ہو جاتے ہیں۔انسان کے اندر اس کا مادہ بھی ہے اور جب کوئی ایسی حالت جو کسی شخص کے لئے ناپسندیدہ ہو تو غصہ کی صورت میں اس کا اظہار ہوتا ہے لیکن جب استغفار کی ڈھال کے اندر ایک انسان رہ رہا ہو تو بے محل غصہ کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اگر انسان کو جائز غصہ آئے گا بھی تو وہ مغلوب الغضب ہو کر نہیں آئے گا بلکہ اصلاح کے لئے آئے گا۔پھر اور بھی بہت سی بشری کمزوریاں ہیں جو ہر ایک کی طبیعت کے لحاظ سے کسی میں کم اور کسی میں زیادہ ہیں۔لیکن اگر اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرنے کی خواہش ہوگی اور اس کے لئے کوشش ہوگی تو اللہ تعالیٰ برائیوں کو دور کرنے اور ان کے بدنتائج سے پھر انسان کو محفوظ رکھتا ہے۔جو اصل انسانی فطرت ہے وہ نیکی کی طرف لے جانے والی ہے۔نیک فطرت ہے اور یہ فطرت وہ ہے جس کے بارے میں حدیث میں آتا ہے، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ہر بچہ نیک فطرت پیدا ہوتا ہے اور بڑے ہونے تک وہ جس ماحول میں رہ رہا ہوتا ہے اس کا ماحول اسے وہ بناتا ہے جو نظر آرہا ہوتا ہے۔پس استغفار اس نیک فطرت کو بھی ابھارتی ہے اور بدی کو اس طرح دبا دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی تو فیق اور طاقت سے اس کا اظہار نہیں ہوتا اور پھر اس کو یعنی نیکیوں کو مستقلاً اپنی زندگی کا حصہ بنانے کے لئے بھی استغفار کی ضرورت ہے۔پس ان دنوں میں جیسا کہ میں نے کہا اپنے جائزے لیں اور بہت دعائیں کریں اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں کہ جب اس نے ہمیں زمانے کے امام کو مانے کی توفیق عطا فرمائی ہے تو ان معیاروں کے حصول کی بھی توفیق عطا فرمائے جو آپ اپنی جماعت سے چاہتے ہیں۔صرف دنیا داری اور دنیاوی چیزوں میں آگے بڑھنا ہمارا مقصود نہ ہو بلکہ خدا تعالیٰ کی رضا اور نیکیوں میں سبقت لے جانا ہمارا مقصود ہو۔کسی کی دولت دیکھ کر زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کی خواہش نہ ہو۔اگر دولت کمانے کی خواہش ہو تو وہ بھی اس لئے کہ دین کی خاطر اسے خرچ کروں اور کسی کو اگر کوئی خواہش ہو دلی درد کے ساتھ تو کسی کو نیکیوں میں آگے بڑھتا ہوا دیکھ کر نیکیوں میں آگے بڑھنے کی خواہش ہوا اور تڑپ ہوا اور اس کے لئے خدا تعالیٰ سے مدد اور طاقت مانگنے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ ان دنوں کے نیک اثرات ہر ایک میں پیدا فرمائے۔کارکنان ہیں تو وہ بھی چلتے پھرتے ، کام کرتے ، ذکر الہی اور استغفار کرتے رہیں اور اس بات پر خوش ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی خدمت کی توفیق عطا فرمائی ہے جن سے حسن سلوک اور حسن خلق سے پیش آنا ان کا فرض ہے۔اور یہ اس لئے بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی اپنے مسیح و مہدی کو فرمایا تھا اور آج یہ ہماری ذمہ داری بھی ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جب فرمایا تھا کہ یا تُونَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ - ( تذکرہ صفحہ 39۔ایڈیشن چہارم 2004 ء مطبوعہ ربوہ ) کہ کثرت سے لوگ آئیں گے اور ایسے راستوں سے آئیں گے جو ان کے چلنے سے گہرے ہو جائیں گے۔تو آپ نے ایک جگہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ بھی فرمایا ہے کہ لوگوں کی کثرت دیکھ کر پریشان نہ ہو جانا اور اللہ تعالیٰ