خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 376
خطبات مسرور جلد هفتم 376 خطبه جمعه فرمود 14 اگست 2009 فرمایا ” جب انسان پیدا ہو گیا تو خالقیت کا کام تو پورا ہو گیا مگر قیومیت کا کام ہمیشہ کے لئے ہے۔اس لئے دائگی استغفار کی ضرورت پیش آئی۔ریویو آف ریلیجنز اردو، شمارہ نمبر 1 جلد 5 مئی 1902 صفحہ 188-187) پس یہ ہے استغفار کی وہ گہری حکمت جس کو پیش نظر رکھ کر ہمیں استغفار کرنی چاہئے۔انسان کمزور ہے اپنی طاقت سے برائیوں سے بچ نہیں سکتا اور نفس امارہ بعض دفعہ انسان پر غالب آجاتا ہے۔امارہ کہتے ہیں جو بدی کی طرف رغبت دلانے والا ہو۔سرکشی اور بغاوت پر آمادہ کرنے والا ہو۔انسان کے نفس کے اندر یہ شیطان اٹھتا رہتا ہے۔پس اس سرکشی سے اس بغاوت اور برائی سے تبھی بیچا جا سکتا ہے جب بار بارخدا تعالیٰ کو انسان پکارے۔شیطان نے خدا تعالیٰ کو کہا تھا کہ میں ہر راستے سے تیرے بندوں کو ورغلانے اور انہیں برائیوں کی طرف مائل کرنے کے لئے آؤں گا۔اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا تھا کہ جو میرے خالص بندے ہیں وہ کبھی بھی تیرے بہکاوے میں نہیں آئیں گے۔پس شیطان کے حملوں سے بچنے کے لئے انسان کو بڑی کوشش کرنی چاہئے۔شیطان نے انسان کو بڑی بڑی امیدیں دلا کر ورغلانے کی کوششیں کی ہیں اور کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے استغفار کا ذریعہ ہمارے سامنے رکھا ہے اور یہ وعدہ فرمایا ہے کہ جو کوشش کریں گے ان کو میں ہدایت کے راستے دکھاؤں گا اور جیسا کہ میں پہلے بھی ذکر کر آیا ہوں یہ مستقل مزاجی سے کوشش ہے۔اگر شیطان ہر راستے پر ورغلانے کے لئے بیٹھا ہے تو خدا تعالیٰ کا بھی وعدہ ہے کہ جو ایک کوشش سے میری طرف آئیں گے۔لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ہم انہیں اپنے راستے کی طرف ہدایت دیں گے۔پس استغفار بھی جو خالص ہو کر مستقل مزاجی سے کی جائے اللہ تعالیٰ سے برائیوں کے خلاف طاقت حاصل کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔خوش قسمت ہیں وہ جو اس اصل کو سمجھیں اور اس روحانی ماحول میں فائدہ اٹھاتے ہوئے اس روحانی ماحول سے اپنے نفسوں کے جائزے لیتے ہوئے اپنی تمام روحانی اور اخلاقی برائیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں اور ان کے دل میں ایک درد ہو، ایک تڑپ ہو اور کوشش کے ساتھ خدا تعالیٰ سے اس کی طاقت چاہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام کی یہ بھی خوبصورتی ہے کہ ہر ہر لفظ اپنے اندر حکمت لئے ہوئے ہوتا ہے۔مثلاً فرمایا کہ خدا تعالیٰ سے درخواست کرنا کہ بشریت کی کوئی کمزوری ظاہر نہ ہو۔اب انسان تو کمزور ہے۔یہ تو ہو نہیں سکتا کہ اس میں بشری کمزوری نہ ہو۔اللہ تعالیٰ نے اگر کوئی انسان کامل پیدا کیا ہے تو ایک ہی انسان کامل تھا جو ہمارے آقا و مولیٰ حضرت رسول اللہ تے تھے۔بشری کمزوریاں بیشک انسان میں رہتی ہیں لیکن استغفار کا فائدہ یہ ہے کہ وہ ظاہر نہ ہوں۔کبھی ایسی حالت نہ آئے جو ان کو ظاہر کرنے والی ہو۔اگر کبھی ایسی حالت آتی ہے تو فورا استغفار کی وجہ سے خدا تعالیٰ وہ طاقت عطا فرمائے کہ اس کا اظہار نہ ہو سکے۔مثلاً غصہ ہے جب بہت سارے لوگ اکٹھے