خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 365 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 365

365 خطبه جمعه فرموده 7 اگست 2009 خطبات مسرور جلد هفتم پھر فرماتے ہیں ”اب ہمارے مخالفین کو سوچنا چاہئے کہ اس باغ کی ترقی اور سرسبزی عبدالحق کے مباہلہ کے بعد کس قدر ہوئی ہے۔یہ خدا کی قدرت نے کیا ہے۔جس کی آنکھیں ہوں وہ دیکھے۔ہماری امرتسر کی مخلص جماعت۔ہماری لاہور کی مخلص جماعت۔ہماری سیالکوٹ کی مخلص جماعت ہے۔ہماری کپورتھلہ کی مخلص جماعت ہے۔ہماری ہندوستان کے شہروں کی مخلص جماعتیں وہ نو را خلاص اور محبت اپنے اندر رکھتی ہیں کہ اگر ایک با فراست آدمی ، ایک مجمع میں ان کے منہ دیکھے تو یقینا سمجھ لے گا کہ یہ خدا کا ایک معجزہ ہے جو ایسے اخلاص ان کے دل میں بھر دیے۔ان کے چہروں پر ان کی محبت کے نور چمک رہے ہیں۔وہ ایک پہلی جماعت ہے جس کو خدا صدق کا نمونہ دکھلانے کے لئے تیار کر رہا ہے۔یہاں اس حوالے سے میں اس جگہ سے منسوب ہونے والے ، ان شہروں سے منسوب ہونے والے، ہندوستان سے منسوب ہونے والے لوگوں سے بھی کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے آباء واجداد کی ان قربانیوں اور اخلاص کو ہمیشہ یادرکھیں اور اس میں ترقی کرتے چلے جائیں کہ یہی چیز جو ہے وہ جماعتی ترقی کا بھی موجب بننے والی ہے اور حقیقی رنگ میں ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ جوڑ کر ان تمام فیضوں سے فیضیاب کرنے والی ہے جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا ہے اور آج تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہندوستان سے باہر نکل کر بھی دنیا کی جماعتوں میں یہ اخلاص پیدا ہو رہا ہے۔کیا یورپ کیا ایشیا کیا افریقہ۔پس ہر جماعت کو اپنے روحانی معیاروں کو بلند کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور ترقی کرتے چلے جانا چاہئے۔پھر فرمایا ” دسواں امر جو عبدالحق کے مباہلہ کے بعد میری عزت کا موجب ہوا جلسہ مذاہب لا ہور ہے۔اس جلسہ کے بارہ میں مجھے زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔جس رنگ اور نورانیت کی قبولیت میرے مضمون کے پڑھنے میں پیدا ہوئی اور جس طرح دلی جوش سے لوگوں نے مجھے اور میرے مضمون کو عظمت کی نگاہ سے دیکھا کچھ ضرورت نہیں کہ میں اس کی تفصیل کروں۔بہت سی گواہیاں اس بات پر سن چکے ہو کہ اس مضمون کا جلسہ مذاہب پر ایسا فوق العادت اثر ہوا تھا کہ گویا ملائک آسمان سے نور کے طبق لے کر حاضر ہو گئے تھے۔ہر ایک دل اس کی طرف ایسا کھینچا گیا تھا کہ گویا ایک دست غیب اس کو کشاں کشاں عالم وجد کی طرف لے جارہا ہے۔جب لوگ بے اختیار بول اٹھے تھے کہ اگر یہ مضمون نہ ہوتا تو آج باعث محمد حسین وغیرہ کے اسلام کو سبکی اٹھانی پڑتی۔ہر ایک پکارتا تھا کہ آج اسلام کی فتح ہوئی۔مگر سوچو کہ کیا یہ فتح ایک دجال کے مضمون سے ہوئی ؟ پھر میں کہتا ہوں کیا ایک کافر کے بیان میں یہ حلاوت اور یہ برکت اور بی تا ثیر ڈال دی گئی۔وہ جو مومن کہلاتے تھے اور آٹھ ہزار مسلمانوں کو کافر کہتے تھے جیسے محمد حسین بٹالوی۔خدا نے اس جلسہ میں کیوں ان کو ذلیل کیا۔کیا یہ وہی الہام نہیں کہ میں تیری اہانت کرنے والوں کی اہانت کروں گا۔اس جلسہ اعظم میں ایسے شخص کو کیوں عزت دی گئی جو مولویوں کی نظر میں کافر مرتد ہے۔کیا کوئی مولوی اس کا جواب