خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 362 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 362

362 خطبه جمعه فرموده 7 اگست 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم کے مطابق مر گیا اور تمام مخالفوں کا منہ کالا ہوا۔اور ان کی تمام جھوٹی خوشیاں خاک میں مل گئیں۔اس پیشگوئی کے واقعات پر اطلاع پا کر صد بادلوں کا کفر ٹوٹا اور ہزاروں خط اس کی تصدیق کے لئے پہنچے اور مخالفوں اور مکذبوں پر وہ لعنت پڑی جواب دم نہیں مار سکتے“۔پھر فرمایا کہ ” وہ امر جو مباہلے کے بعد میری عزت کا موجب ہوا وہ ان عربی رسالوں کا مجموعہ ہے جو مخالف مولویوں اور پادریوں کے ذلیل کرنے کے لئے لکھا گیا تھا اور انہیں میں سے یہ عربی مکتوب ہے جو اب نکلا۔“ ( جو آپ نے انجام آتھم میں لکھا تھا ”کیا اس کے دوسرے بھائی ان رسائل کے مقابل پر مر گئے ؟ اور کچھ بھی لکھ نہ سکے ؟ ( یہ عبدالحق کے حوالے سے بات ہو رہی ہے اور دنیا نے یہ فیصلہ کر دیا کہ عربی دانی کی عزت اسی شخص یعنی اس راقم کے لئے مسلم ہے۔(حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے ) " جس کو کا فر ٹھہرایا گیا ہے اور یہ سب مولوی جاہل ہیں۔“ فرماتے ہیں کہ اسی وقت میں خدا نے شیخ محمد حسین بٹالوی کا وہ الزام کہ اس شخص کو عربی میں ایک صیغہ نہیں آتا میرے سر پر سے اتارا۔اور محمد حسین اور دوسرے مخالفین کی جہالت کو ظاہر کیا۔الحمد للہ علی ذالک۔“ پھر فرماتے ہیں کہ ” تیسرا وہ امر جو میری عزت کا موجب ہوا وہ قبولیت ہے جو مباہلے کے بعد دنیا میں کھل گئی۔مباہلے سے پہلے میرے ساتھ شاید تین چار سو آدمی ہوں گے اور اب آٹھ ہزار سے کچھ زیادہ وہ لوگ ہیں جو اس راہ میں جان فشاں ہیں۔( یہ 1893ء کی بات ہے اور جس طرح اچھی زمین کی کھیتی جلد جلد نشو ونما پکڑتی اور بڑھتی جاتی ہے ایسا ہی فوق العادت طور پر اس جماعت کی ایک ترقی ہو رہی ہے۔نیک روحیں اس طرف دوڑتی چلی آتی ہیں اور خدا از مین کو ہماری طرف کھینچتا چلا آتا ہے ( اور یہ اللہ تعالیٰ کا جو نشان ہے اس کو ہم آج بھی پورا ہوتے دیکھ رہے ہیں۔جس کا میں نے کچھ ذکر اپنے جلسے کی رپورٹ میں بھی کیا تھا)۔فرماتے ہیں کہ مباہلہ کے بعد ہی ایک ایسی عجیب قبولیت پھیلی ہے کہ اس کو دیکھ کر ایک رفت پیدا ہوتی ہے۔ایک دوا مینٹ سے اب ایک محل تیار ہو گیا ہے اور ایک دو قطرے سے اب ایک نہر معلوم ہوتی ہے ( اور آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے دیکھیں کہ نہریں بھی بڑے بڑے دریاؤں کی اور تیز اور تند دریاؤں کی شکل اختیار کرتی چلی جارہی ہیں اور باوجود تمام تر مخالفتوں کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں لوگ شامل ہورہے ہیں۔فرمایا کہ "فرشتے کام کر رہے ہیں اور دلوں میں نور ڈال رہے ہیں سود یکھو کیسی عزت ہم کو ملی۔سچ کہو کیا یہ خدا کا فعل ہے یا انسان کا“۔پھر فرمایا ” وہ امر جو مباہلے کے بعد میری عزت کا موجب ہوا، رمضان میں خسوف و کسوف ہے۔کتب حدیث میں صدہا برسوں سے یہ لکھا ہوا چلا آتا تھا کہ مہدی کی تصدیق کے لئے رمضان میں خسوف و کسوف ہوگا اور آج تک کسی نے نہیں لکھا کہ پہلے اس سے کوئی ایسا مہدویت کا مدعی ظاہر ہوا تھا جس کو خدا نے یہ عزت دی ہو کہ اس کے لئے رمضان میں خسوف کسوف ہو گیا ہو۔سوخدا نے مباہلہ کے بعد یہ عزت بھی میرے نصیب کی۔“