خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 361
خطبات مسرور جلد ہفتم 361 خطبه جمعه فرموده 7 اگست 2009 میں تجھے اپنی جناب میں رفعت بخشوں گا۔میں تجھے عزت اور غلبہ دوں گا، جو کچھ میں دوں اسے کوئی بند نہیں کر سکتا۔تذکرہ صفحہ 97۔ایڈیشن چہارم 2004 ء مطبوعہ ربوہ ) پس لوگوں کی کوششوں سے وہ فضل جو خدا تعالیٰ نے آپ کو عطا فر مایا اور آپ کی جماعت پر بھی جاری ہے۔اس کو کوئی دنیاوی طاقت بند نہیں کرسکتی۔پھر ایک الہام ہے کہ إِنِّي مَعَكَ يَا إِمَامُ رَفِيعُ الْقَدْرِ۔اے عالی قدر امام !میں تیرے ساتھ ہوں“۔( تذکرہ صفحہ 430۔ایڈیشن چہارم 2004 ء مطبوعہ ربوہ ) یہ چند الہامات بیان کرنے کا مقصد میرا یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہامات کے ذریعہ تسلی دی تو آپ کے حق میں زمینی و آسمانی تائیدات کے نشانات بھی دکھائے۔آپ کی جماعت میں شامل ہونے والا ہر شخص چاہے وہ دنیا کے کسی بھی خطے میں بستا ہو اس بات کا گواہ بن جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس کے دل میں آپ کے ارفع مقام کی پہچان کو ڈالا۔اور جو بھی نیک نیت اور سعید فطرت ہے خدا تعالیٰ اس کی ہدایت کے سامان پیدا فرماتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تائید میں آپ کے مقام کی پہچان کروانے کے لئے بے شمار نشانات دکھائے جن کا بیان تو ممکن نہیں۔اس وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں ان چند باتوں کا ذکر کروں گا جو آپ نے اپنی کتاب انجام آتھم میں درج فرمائی ہیں اور جنہیں آپ نے اُن خاص حالات کے حوالے سے اپنے مقام ومرتبہ اور عزت کا باعث ٹھہرایا ہے۔انجام آتھم جو کتاب ہے یہ آپ نے عبداللہ آتھم کی وفات پر لکھی تھی۔اور عبد اللہ آتھم وہ تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی سے ایک عبرت کا نشان بنا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اسلام اور آنحضرت ﷺ کی سچائی اور شان کو دنیا پر ظاہر فرمایا۔بہر حال عبد اللہ ہ تم ایک پادری تھا۔اس کی وفات کو بعض علماء اور سجادہ نشینوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دشمنی میں کوئی نشان تسلیم نہ کیا۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان سب کو دعوت مباہلہ دی اور عربی زبان میں ایک مکتوب لکھا۔یہ مکتوب کیا، دو سو صفحے سے اوپر کی ایک پوری کتاب ہے، اور اس میں اللہ تعالیٰ کی اپنے حق میں تائیدات کا ذکر فرمایا اور اس کے آخر میں آپ نے اُردو زبان میں ایک ضمیمہ لکھا اس میں مولوی ثناء اللہ امرتسری کے ایک بے بنیاد اعتراض پر جو مولوی عبداللہ غزنوی کے حوالے سے انہوں نے کیا تھا، کتاب کے حاشیہ میں اپنی تائید اور اللہ تعالیٰ کے آپ کو عزت کا مقام دیئے جانے کا ذکر فرمایا ہے۔تو اس میں سے میں کچھ حصہ پیش کروں گا۔آپ فرماتے ہیں کہ : ” سو جاننا چاہئے کہ وہ امور بہ تفصیل ذیل ہیں جو بحکم الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ ہماری عزت کے موجب ہوئے۔فرمایا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ آتھم کی نسبت جو پیشگوئی کی گئی تھی وہ اپنے واقعی معنوں کے رو سے پوری ہوگئی اور اس دن سے وہ پیشگوئی بھی پوری ہوئی جو۔۔۔براہین حمدیہ میں لکھی گئی تھی۔آنتم اصل منشاء الہام