خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 346 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 346

346 خطبات مسرور جلد هفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 31 جولائی 2009 بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔پس یہ بات ہمیں اس طرف توجہ دلانے والی ہونی چاہئے کہ ہماری زبانیں اللہ تعالی کے شکر کا اظہار ہمیشہ کرتی چلی جائیں۔اُن باتوں پر بھی شکر گزاری جو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو ہم نے دیکھا اور اُن باتوں پر بھی شکر گزاری جن کا ہمیں علم نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے جلسے کے دنوں میں پہلے دن بارش برسائی تو یہ بھی ہمارے فائدے کے لئے تھی ، بارش رو کی تو وہ بھی ہم پر فضل فرماتے ہوئے۔ہر قسم کے شر سے ہمیں محفوظ رکھا جن کا ہمیں علم بھی نہیں تھا۔پھر آج کل اِن ملکوں میں بلکہ پوری دنیا میں جو سوائن فلو (Swine Flu) پھیلا ہوا ہے، انفلوائنزا ہے، بڑی فکر تھی اور خیال تھا کہ جلسے کی وجہ سے جب مختلف جگہوں سے لوگ جمع ہوں گے تو یہ بھی علم نہیں کہ کس کس نے کس کس قسم کے جراثیم اٹھائے ہوئے ہیں اور عام حالات میں بھی جبکہ وبائی یا خطر ناک بیماریاں نہ بھی پھیلی ہوں تب بھی ایک دوسرے سے بیماریاں لگ جاتی ہیں۔بہر حال یہ خیال تھا کہ کیونکہ اس طرح فلو پھیلا ہوا ہے تو جلسے کے دنوں میں چند فیصد لوگوں کو یہ ضرور متاثر کرے گا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور سوائے چند ایک کیسز کے یعنی تین چار جو میرے علم میں آئے ہیں یہ بیماری کسی کو نہیں لگی۔اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں میں سے ایک بہت بڑا فضل ہے۔پس سب سے پہلے تو ہم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں اور پہلے سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے اس کے فضل کو مانگتے ہیں تا کہ اس کے فضل ہم پر بڑھتے رہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ (البقرة : 159) پس یقینا اللہ تعالیٰ بہت قدر دان اور جاننے والا ہے۔جب اللہ تعالیٰ کے لئے لفظ شاکر استعمال ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔اگر ہمارے شکر ہمارے دل کی گہرائیوں سے ادا ہورہے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ پھر ان کی بڑی قدر کرتا ہے اور فرماتا ہے لَئِن شَكَرْتُمْ لَا زِيدَنَّكُمُ (ابراہیم : 8 ) اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور بھی زیادہ دوں گا۔پس یہ حقیقی شکر گزاری تب ہوگی جب مستقل مزاجی سے ہم خدا تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنے رہیں گے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ شاکر علیم ہے۔وہ قدردان ہے اور علم بھی رکھتا ہے۔اُسے علم ہے کہ کون حقیقی شکر ادا کر رہا ہے۔اسے دھوکہ نہیں دیا جا سکتا۔پس ہم میں سے ہر ایک کو حقیقی شکر گزار بنا چاہئے اور بنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اب اس مختصر ذکر کے بعد میں کارکنان اور کارکنات کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں اور تمام شامل ہونے والوں کو بلکہ دنیا میں کسی جگہ بھی بیٹھ کر جلسہ کی کارروائی سننے والوں کو جو یہاں شامل ہوئے ہیں ان کو بھی اور جو دنیا میں سُن رہے تھے ان کو بھی ان کارکنان اور کارکنات کا شکر گزار ہونا چاہئے۔کیونکہ والنٹیئر کا ایک حصہ ایسا ہے جو دنیا میں جلسہ کے تمام پروگرام دکھانے میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے اور انسانوں کی شکر گزاری کا ہمیں حکم بھی ہے۔کیونکہ یہ شکر گزاری پھر خدا تعالیٰ کی حقیقی شکر گزاری کی طرف لے جاتی ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے ، آنحضرت ﷺ نے فرمایا که وَمَنْ لَّمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ اللہ کہ جولوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کا بھی شکر گزار نہیں ہوتا۔یا شکر ادا نہیں کرسکتا۔(مسند احمد بن حنبل جلد 6 بقية حدیث النعمان بن بشیر حدیث نمبر 19565 عالم الكتب بيروت 1998ء)