خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 343 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 343

خطبات مسرور جلد ہفتم سپیکش 343 خطبہ جمعہ فرمودہ 24 جولائی 2009 ن (Inspection) جس دن ہوئی ہے ان کو ایک مثال دی تھی ایک خاتون کی کہ وہ بڑی چاہت سے عورتوں میں صفائی پر ڈیوٹی لگوایا کرتی تھیں اور جب بھی کوئی غسالخانہ استعمال کرتا فوری طور پر جا کے اس کو صاف کرتی تھیں اور ان کو دیکھ کر کسی کو خیال آیا کہ یہ گتی تو بڑی رکھ رکھاؤ والی خاتون ہیں پتہ کروں کہ کون ہے تو انہوں نے جب اس بارہ میں تحقیق کی تو پتہ چلا کہ یہ آپا مجیدہ شاہنواز مرحومہ ہیں۔ایک سرکاری افسر کی بیٹی تھیں۔ایک بڑے کاروباری شخص کی بیوی تھیں۔لیکن انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی خدمت کے جذبے سے یہ کام کیا اور کرتی رہیں۔جماعت کے لئے بے انتہا مالی قربانیاں کرنے والی تھیں۔لیکن اس مالی قربانی کو کافی نہیں سمجھا اور خدمت کے جذبے سے سرشار رہتی تھیں۔اللہ تعالیٰ ان کی نسل کو بھی جماعت سے مضبوط تعلق قائم کرنے کی توفیق دے۔بہر حال صفائی تو آنحضرت ﷺ کے فرمان کے مطابق ایمان کا حصہ ہے۔(مسلم کتاب الطہارۃ باب فضل الوضوء حدیث 422 ) پس مومنوں کا کام ہے کہ ہر اس چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو بھی اختیار کریں۔جس کے بارہ میں اللہ اور اس کے رسول نے حکم دیا ہے اور صفائی تو مومن ہونے کی نشانی بتائی گئی ہے۔ایمان کا حصہ بتایا گیا ہے۔اس لئے ہر مہمان اور جلسہ میں شامل ہونے والا اس طرف توجہ دے اور یہ خیال نہ کرے کہ میں تو جاتا ہوں اور پیچھے سے شعبہ صفائی والے اپنا کام کرتے رہیں گے۔اور آج خاص طور پر جبکہ بارش ہو رہی ہے ذرا سا بھی گند جو ہے وہ زیادہ نظر آتا ہے۔کیچڑ والے بوٹ لے کے جب آپ غلسخانوں میں جائیں گے تو گند ہوگا۔کوشش کریں، ایک تو وہاں انتظامیہ کوشش کرے کہ کوئی ٹاٹ یا ایسی چیزیں رکھے دیں کہ جوتے صاف کر کے لوگ اندر جائیں کیونکہ آج بارش کی پیشگوئی ہے اور ہو سکتا ہے سارا دن ہوتی رہے۔پھر آج کل سوائن فلو پھیلا ہوا ہے۔حکومت کی طرف سے بھی اس کی احتیاط کے بارے میں ہوشیار کیا جارہا ہے اور ایم ٹی اے پر بھی اعلان ہورہا ہے۔اس کے لئے بھی ایک تو جو ظاہری تدبیر ہے اس کے مطابق انتظامیہ نے یہ انتظام کیا ہے کہ ہر آنے والے کو ہومیو پیتھک دوائی دینی ہے۔مجھے نہیں پتا کہ آج دی گئی ہے کہ نہیں۔لیکن نہیں دی گئی تو دوبارہ جب باہر جائیں اور اس سکینر میں سے گزریں تو وہ دوائی دی جانی چاہئے۔اس بارہ میں ہر مہمان کو ، ہر آنے والے کو تعاون کرنا چاہئے۔دوسرے اگر کسی کو کسی بھی قسم کا فلو کا شک ہو تو دوسرے کا خیال کرتے ہوئے جلسہ پر آنے سے پہلے اپنے متعلقہ ڈاکٹر سے مشورہ لیں۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو اس بیماری سے محفوظ رکھے۔ہر قسم کی بیماریوں سے محفوظ رکھے اور جلسہ میں شامل ہونے والے جلسے کی برکات کو سمیٹتے ہوئے گھروں کو جائیں۔پھر جو دوسرے ممالک سے مہمان آئے ہوئے ہیں خاص طور پر پاکستان، بنگلہ دیش اور ہندوستان وغیرہ سے اور اسی طرح افریقین ممالک سے انہیں میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ اپنے ویزے کی مدت ختم ہونے سے بہت پہلے واپس جانے کی کوشش کریں۔کیونکہ اس مرتبہ خاص طور پر مختلف ملکوں میں یو کے ایمبیسی کے ویزا دینے والے جو شعبے ہیں انہوں نے بعض جگہ احمدیوں کو حالانکہ وہ اکثر یہاں آنے والے تھے اعتراض کر کے ان کے ویزے واپس کر دیئے