خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 342 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 342

342 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 24 جولائی 2009 پیاروں کے ساتھ ہوں ( تذکرہ صفحہ 630 ایڈیشن چہارم 2004ء مطبوعہ ربوہ ) اور یہ بھی کہ آخری غلبہ آپ کا ہے۔اور یہ سب باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ جماعت کو بحیثیت جماعت ہمیشہ اپنی حفاظت میں رکھے گا انشاء اللہ۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس جماعت نے ترقی کرنی ہے۔لیکن مخالف اور دشمن ہمیشہ اس تاک میں رہتا ہے کہ کسی طرح نقصان پہنچانے کی کوشش کی جائے اور انفرادی طور پر بعض دفعہ قربانیاں بھی دینی بھی پڑتی ہیں۔بعض دفعہ ہماری بے احتیاطیوں کی وجہ سے بھی مخالفین فائدہ اٹھاتے ہیں اور آج کل دنیا کے جو حالات ہیں اس میں جو ظاہری احتیاطیں ہیں وہ کرنی اور بڑی پابندی کے ساتھ کرنی عقل کا تقاضا بھی ہے اور خدا تعالیٰ کا حکم بھی ہے۔اس لئے آپ نے دیکھا ہوگا کہ انتظامیہ نے اس دفعہ یہ انتظام بھی کیا ہے کہ سکینز لگائے گئے ہیں اور اس کی وجہ سے ہو سکتا ہے کہ بعض اوقات جلسہ گاہ تک پہنچنے میں کچھ زائد وقت بھی لگ جائے۔ایک تو صبر اور حوصلے کے ساتھ نئے طریق کے مطابق اپنی چیکنگ کروانے میں انتظامیہ سے پورا تعاون کریں۔بلکہ جو چیکنگ کرنے والے ہیں وہ کارکنان کو بھی یا جس کو جانتے ہیں ان کو بھی اگر وہ ایک دفعہ باہر جا کر دوبارہ اندر آتا ہے تو سکینر میں سے گزاریں۔دوسرے ہر شامل ہونے والا خود بھی اپنے ماحول پر نظر رکھے۔کیونکہ یہ تو ظاہر ہے کہ ہر مخلص احمدی ہر وقت جماعت کو کسی بھی قسم کے نقصان سے بچانے کی فکر میں رہتا ہے۔اس لئے اس کا بھی تقاضا ہے کہ اپنے ماحول پر بھی نظر رکھے۔اور اس لحاظ سے ان دنوں میں انتظامیہ کی اس طرح بھی مدد کریں کہ اگر کسی کے بارے میں بھی شک ہو کہ یہ مشکوک ہے یا کسی بھی قسم کی ایسی حرکت ہے تو انتظامیہ کو اس کی اطلاع دیں۔خاص طور پر خواتین کو اس بارہ میں ہوشیار رہنا چاہئے۔لجنہ کی طرف کوئی بھی عورت مکمل طور پر چہرہ ڈھانپ کر پھرنے والی اور وہاں بیٹھنے والی نہ ہو۔کئی سال پہلے یہاں ایک واقعہ ہو چکا ہے کہ عورت کے بھیس میں ایک مرد کو پکڑا گیا تھا۔تو یہ نہ سمجھیں کہ اب ہم ہوشیار ہو چکے ہیں کہ چیکنگ بھی اچھی طرح ہورہی ہے اس لئے بے فکر ہو جائیں۔ریلیکس (Relax) ہو جائیں۔بے فکری کی حالت میں ہی بعض نقصانات اٹھانے پڑ جاتے ہیں اس لئے ہمیشہ ایک مومن کو چوکس رہنا چاہئے۔پھر صفائی ہے۔اس کا بھی خاص خیال رکھیں۔جلسے کے ماحول میں کبھی گند زمین پر نہ پھینکیں۔یہ نہ سمجھیں کارکنان موجود ہیں وہ بعد میں اٹھالیں گے۔خود ہی معین جگہیں جہاں بنائی گئی ہیں جہاں ڈسٹ بن رکھے گئے ہیں وہاں جا کر اپنا گند پھینکیں چاہے وہ ڈسپوزایبل گلاس ہے کاغذ ہے، کوئی بھی چیز ہے۔اگر وہاں جا کے گند پھینکیں گے تو تھوڑی سی تکلیف ہوگی مگر ماحول صاف رہے گا۔اور پھر اس طرح غسل خانے ہیں، ٹائلیٹس ہیں وہاں بھی مہمان یہ کوشش کریں کہ استعمال کے بعد انہیں اچھی طرح صاف کر دیں اور یہ کوئی ایسی بات نہیں جس سے کسی کا مقام گرتا ہو۔جو کارکن اور کارکنات صفائی پر مقرر ہیں وہ بھی اکثر صاحب حیثیت اور اچھے خاندان والے ہوتے ہیں۔صفائی کرنے سے عزت کم نہیں ہوتی بلکہ عزت بڑھتی ہے اور اچھے اخلاق کا مظاہرہ ہوتا ہے۔جہاز پر بھی جب آپ سفر کر رہے ہوں تو وہاں بھی ٹائیلٹس میں لکھا ہوتا ہے کہ اگلے مسافر کی سہولت کے لئے غسلخانے کو صاف کر کے جائیں۔کارکنان کی