خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 340 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 340

340 خطبہ جمعہ فرمودہ 24 جولائی 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم معذرت بھی کر لیتی ہے۔اسی طرح مجھے قادیان کے لنگر خانے کی بھی شکایات آ جاتی ہیں اور یہاں خلیفہ وقت کی موجودگی کی وجہ سے مستقل لنگر چلتا ہے اس لئے یہاں بھی شکایات پیدا ہوتی رہتی ہیں اور خاص طور پر جلسے کے دنوں میں شکایات پیدا ہوتی ہیں۔باقی دنیا میں عام دنوں میں تو لنگر نہیں چل رہا ہوتا کیونکہ وہاں ابھی لنگر کا اتنا وسیع انتظام نہیں ہے اور نہ لوگوں کا آنا جانا ہوتا ہے۔لیکن جلسے کے دنوں میں لنگر چلتا ہے۔وہاں بھی شکایات پیدا ہوتی ہیں۔تو بہر حال کارکنان کی طرف سے یہ کوتاہیاں جو ہیں وہ ہوتی ہیں جو نہیں ہونی چاہئیں۔کارکنان کا فرض ہے کہ جو شخص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لنگر میں آئے اس کی پوری عزت کی جائے اسے احترام دیا جائے۔جہاں جہاں مستقل لنگر چلتے ہیں وہاں کے کارکنان کو میں توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ وہاں کوئی بھی مہمان آئے چاہے وہ وہاں مقامی رہنے والا ہو، ربوہ کا یا قادیان کا ، یہاں کے بھی آتے ہیں، ان کے جذبات کا احترام کریں اور کبھی کوئی چھتی ہوئی بات نہ کریں۔بہر حال مہمان نوازی کی وجہ سے یہ باتیں میں نے عام لنگر خانوں کے بارہ میں بھی ضمنا کہہ دیں۔لیکن مہمانوں کی طرف دوبارہ لوٹتے ہوئے میں پھر یہی کہوں گا کہ انہیں بھی صبر اور حوصلے کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔جلسے کے ان دنوں میں کیونکہ سب والنٹیئر زہیں، مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والے ہیں، یونیورسٹیوں، کالجوں کے طلباء ہیں۔اس ماحول میں رہنے کے باوجود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں ہونے کی وجہ سے اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی خدمت کے لئے پیش کرتے ہیں۔ان کی کمزوریوں سے صرف نظر کریں اور ان کے جذبے کی قدر کریں جس کے تحت انہوں نے اپنے آپ کو خدمت کے لئے پیش کیا ہے۔جہاں تک غیر از جماعت مہمانوں کا سوال ہے ان کے لئے علیحدہ انتظام ہوتا ہے تا کہ ان کی مہمان نوازی زیادہ بہتر رنگ میں کرنے کی کوشش کی جاسکے۔آنحضرت ﷺ کے اس فرمان کی روشنی میں کہ ” جب تمہارے پاس کسی قوم کا کوئی معز شخص آئے تو اس کا بہت زیادہ احترام و اکرام کرو۔“ (ابن ماجہ ابواب الادب باب اذا ا تا کم کریم قوم فاکر موہ حدیث 3712) یہاں جلسہ پر آنے والے مہمانوں کو اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہئے کہ ان کا مقصد جلسہ سننا اور اس سے روحانی فائدہ اٹھانا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو واضح فرمایا ہے کہ یہ جلسہ کوئی دنیاوی میلوں کی طرح نہیں ہے۔“ ( شہادت القرآن روحانی خزائن جلد 6 صفحه 395) دنیاوی میلوں کی جو حالت ہوتی ہے اُس میں تو سارا دن لوگ پھرتے رہتے ہیں ، تماشے دیکھتے رہتے ہیں لغو محفلیں بجتی رہتی ہیں، کھانا پینا اور شور شرابے کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔یہاں تو تین دن اگر انسان جسمانی غذا کی بجائے روحانی غذا کی طرف توجہ دے تو تبھی اپنے عہد بیعت کا حق ادا کرنے والا سچا احمدی کہلا سکتا ہے۔پس اس بات کو لازمی بنائیں کہ جلسے کی کارروائی کے جو بھی پروگرام ہیں