خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 325 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 325

325 خطبہ جمعہ فرمودہ 17 جولائی 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم لئے فرمایا جسے وہ کا فر پی گیا۔پھر دوسری اور تیسری یہاں تک کہ وہ سات بکریوں کا دودھ پی گیا۔(اور آپ کے اس اسوہ کو دیکھ کر، اس حسن سلوک کو دیکھ کر کہ بغیر کسی چوں چراں کے، بغیر کسی احسان جتانے کے، بغیر کسی قسم کے اشارہ کے آپ نے جتنی مجھے بھوک تھی ، جتنا میں پینا چاہتا تھا یا آزمانا چاہتا تھا بہر حال مجھے اتنا دودھ اور خوراک مہیا کی۔اس کو دیکھ کر اگلی صبح اس نے اسلام قبول کر لیا۔تو آنحضرت ﷺ نے اگلے دن پھر اس کے لئے بکری کے دودھ کا انتظام کیا تو ایک بکری کا دودھ وہ پی گیا اور دوسری بکری کا دودھ لانے کے لئے فرمایا تو پوراختم نہیں کر سکا۔اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مومن ایک آنت میں کھانا کھاتا ہے جبکہ کا فرسات آنتوں میں بھرتا ہے۔( مسند احمد بن مقبل مسند ابی ہریرہ جلد 3 صفحہ 385 حدیث 8866 عالم الكتب بيروت 1998ء) اور اسلام قبول کرنے سے پہلے اسے آپ نے کچھ نہیں کہا اور اسلام قبول کرنے کے بعد بھی اسے یہ نہیں کہا کہ یہی حکم ہے کہ تم بھوک چھوڑ کر کھاؤ۔جہاں تک مہمان ہونے کے ناطے اس کا حق تھا اسے پوری خوراک جو گزشتہ رات دیکھ کر دی تھی اس کا انتظام کیا ، اسے پیش کی لیکن اس نے خود ہی انکار کر دیا۔تب آپ نے یہ بات فرمائی کہ مومن ایک آنت سے پیتا ہے اور کا فرسات آنتوں سے۔اس کے اسلام قبول کرنے کے بعد اس کے مقام کا احساس بھی اسے دلا دیا کہ انسان کی زندگی کا مقصد صرف کھانا پینا ہی نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہے۔جب حبشہ کے مہاجرین واپس آئے تو ان کے ساتھ نجاشی شاہ حبشہ کا بھیجا ہوا ایک وفد بھی تھا تو آنحضرت میل اللہ خود ان کی مہمان نوازی فرماتے رہے۔جب صحابہ نے عرض کی کہ حضور! جب ہم خدمت کرنے کے لئے موجود ہیں تو ( آپ کیوں تکلیف فرماتے ہیں۔تو ہمارے آقا ﷺ نے کیا خوبصورت جواب دیا جو علاوہ مہمان نوازی کے اعلیٰ اصول کے اپنے مظلوم صحابہ کی عزت افزائی کا اظہار بھی کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم احسان کا بدلہ احسان ہی ہے، اس پر عمل کی بھی ایک شاندار مثال ہے اور شکر گزاری کے جذبے کا بھی ایک اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔) آپ نے فرمایا ان لوگوں نے ہمارے صحابہ کو عزت دی تھی اس لئے میں پسند کرتا ہوں کہ ان کی مہمان نوازی اور خدمت میں خود اپنے ہاتھوں سے کروں تا کہ ان کے احسانوں کا کچھ بدلہ ہو۔حبشہ کے قافلہ کے لوگ بھی آپ کے اس طرح مستعدی سے مہمان نوازی کرنے کو دیکھ کر حیران ہوتے ہوں گے کہ یہ کیسا بادشاہ ہے جو اپنے ہاتھ سے ایک عام آدمی کی مہمان نوازی کر رہا ہے اور یہ مہمان نوازی کر کے انسانی شرف کے بھی عجیب و غریب معیار قائم کر رہا ہے جو نہ پہلے کبھی دیکھنے کو ملے نہ سننے کو۔(سیرت الحلبیہ جلد 3 صفحہ 72 غزوۃ خیبر۔دار الکتب العلمية بيروت طبع اول 2002 ء ) پھر ایک یہودی جب رات اپنے پیٹ کی خرابی کی وجہ سے بستر گندا کر کے صبح صبح شرم کے مارے اٹھ کر چلا گیا تو آنحضرت ﷺ نے بغیر کسی کو مدد کے لئے بلانے کے خود ہی اس کا بستر دھونا شروع کر دیا اور جب کسی وجہ سے راستے