خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 324 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 324

324 خطبہ جمعہ فرمودہ 17 جولائی 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم میں آپ کے اس اسوہ حسنہ کی چند مثالیں پیش کروں گا۔آپ نے مہمان کو کھانے کا انتظام کے احسن رنگ میں کرنے سے ہی صرف عزت نہیں بخشی بلکہ مہمان کے جذبات کا خیال بھی رکھا۔اس کی چھوٹی چھوٹی ضروریات کا خیال بھی رکھا اور اس کے لئے قربانی کرتے ہوئے بہتر سہولیات اور کھانے کا انتظام بھی کیا۔اس کے لئے خاص طور پر اپنے ہاتھ سے خدمت بھی کی اور اس کی تلقین بھی اپنے ماننے والوں کو کی کہ یہ اعلیٰ معیار ہیں جو میں نے قائم کئے ہیں۔یہ میرا اسوہ اس تعلیم کے مطابق ہے جو خدا تعالیٰ نے مجھ پر اتاری ہے۔تم اگر مجھ سے تعلق رکھتے ہو تو تمہارا یہ عمل ہونا چاہئے۔تمہیں اگر مجھ سے محبت کا دعوی ہے تو اس تعلق کی وجہ سے، اس محبت کی وجہ سے، میری پیروی کرو۔اور یہ مہمان نوازی اور خدمت بغیر کسی تکلف کسی بدل اور کسی تعریف کے ہو اور خالصتاً اس لئے ہو کہ خدا تعالیٰ نے یہ اعلیٰ اخلاق اپنانے کا حکم دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی ہمارا مقصود اور مطلوب ہونا چاہئے۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ پہلے دن تم مہمان کی خوب خاطر کرو ، اچھی طرح مہمان نوازی کرو اور تین دن تک عام مہمان نوازی بھی ہونی چاہئے کیونکہ یہ مہمان کا حق ہے اور فرمایا کہ اگر تمہیں اللہ اور یوم آخرت پر ایمان ہے تو پھر مہمان کی عزت و تکریم کرو۔( سنن ابی داؤ د کتاب الاطعمه باب ما جاء فی الضیافتہ حدیث 3748) پس مہمان نوازی بھی ایک اعلیٰ خلق ہے جس کا بدلہ اللہ تعالیٰ آخرت میں بھی دیتا ہے ویسے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی نیکی بھی جو تم کرتے ہو اس کا اجر پاؤ گے۔لیکن یہ نیکی ایسی ہے کہ جب خوش دلی سے کی جائے، اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے کی جائے تو اللہ تعالیٰ کی رضا کو کھینچنے والی بنتی ہے اور ایمان میں مضبوطی کا باعث بنتی ہے۔آنحضرت ﷺ کی مہمان نوازی ایک تو مہمان نوازی کے جذبہ سے ہوتی تھی لیکن ایک یہ بھی مقصد ہوتا تھا کہ اگر کوئی کا فرمہمان یا دوسرے کسی مذہب کا مہمان ہے تو وہ آپ کے اعلیٰ اخلاق اور مہمان نوازی دیکھ کر یہ سوچے کہ جس تعلیم کے یہ علمبردار ہیں، جس تعلیم کے یہ پھیلانے والے ہیں یہ اسی تعلیم کا اثر ہو گا کہ اتنے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ ہو رہا ہے۔اور یوں اس مہمان کو اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے۔اور آپ یہ مہمان نوازی کرتے بھی اس لئے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف توجہ پیدا ہوتا کہ اس کی دنیا کے ساتھ ساتھ عاقبت سنور جائے۔پس آپ کی مہمان نوازی صرف ظاہری خوراک کے لئے نہیں ہوتی تھی جس سے مہمان کی ظاہری بھوک مٹے بلکہ روحانی خوراک مہیا کرنے کے لئے بھی ہوتی تھی تاکہ اس کی آخرت کی زندگی کے بھی سامان ہوں اور یہی تعلیم آپ نے اپنے ماننے والوں کو دی کہ تمہارے ہر کام کے پیچھے خدا تعالیٰ کی رضا ہونی چاہئے۔ایک روایت میں آتا ہے ، جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص جو کافر تھا حضرت رسول کریم علیہ کے ہاں مہمان بنا۔آنحضرت ﷺ نے اس کے لئے ایک بکری کا دودھ دوہ کر لانے کے