خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 308
308 خطبہ جمعہ فرمودہ 3 جولائی 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم پھر آپ ابن عباس کی تفسیر کو سامنے رکھ کر دلیل دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تفسیر معالم کے صفحہ 162 میں زیر تغییر آیت يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ لکھا ہے کہ علی بن طلحہ بن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ انسی مُمتیک یعنی میں تجھ کو مارنے والا ہوں۔اس پر دوسرے اقوال اللہ تعالیٰ کے دلالت کرتے ہیں۔( یعنی یہ جو بات ہے اس کی تشریح اللہ تعالیٰ کے اپنے جو قبول ہیں قرآن میں بیان ہوئے وہ ان پر دلیل ہیں ) جیسا کہ فرما یاقُلْ يَتَوَفَّكُمُ مَلَكُ الْمَوْتِ (السجد 120 ) ( یعنی تو کہہ دے کہ موت کا جو فرشتہ تم پر مقرر کیا گیا ہے تمہیں وفات دے گا۔) اور پھر فرمایا الَّذِينَ تَتَوَفَهُمُ الْمَلَئِكَةُ طَيِّبِينَ (انحل: 33) یعنی ( وہ لوگ جن کو فرشتے اس حالت میں وفات دیتے ہیں کہ وہ پاک ہوتے ہیں۔اور پھر فرمایا الَّذِينَ تَتَوَفَّهُمُ الْمَلِئِكَةُ ظَالِمِي أنفُسِهِمْ (النحل: 29 ) ( جن کو فرشتے اس حال میں وفات دیتے ہیں کہ وہ لوگ اپنے نفسوں پر ظلم کر رہے ہوتے ہیں۔غرض حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا اعتقاد یہی تھا کہ حضرت عیسی فوت ہو چکے ہیں اور ناظرین پر واضح ہو گا کہ حضرت ابن عباس قرآن کریم کے سمجھنے میں۔آپ فرماتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کہ ناظرین پر واضح ہوگا کہ حضرت ابن عباس قرآن کریم کے سمجھنے میں اول نمبر والوں میں سے ہیں اور اس بارہ میں ان کے حق میں آنحضرت اللہ کی ایک دعا بھی ہے (ان کی تفسیر قرآن کے بارے میں۔) (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 225-224) یہ صرف تین آیات نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ اعلان کیا ہے کہ قرآن شریف میں اول سے آخر تک جس جس جگہ تَوَفّی کا لفظ آیا ہے ان تمام مقامات پر توفی کے معنی موت ہی لئے گئے ہیں۔پھر ایک جگہ آپ بڑے زور دار الفاظ میں حضرت عیسی کی وفات کا قرآن شریف سے ثابت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر حضرت عیسی حقیقت میں موت کے بعد پھر جسم کے ساتھ اٹھائے گئے تھے تو قرآن شریف میں عبارت یوں ہونی چاہئے تھی کہ يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَقِيكَ ثُمَّ مُحْيِيكَ ثُمَّ رَافِعُكَ مَع جَسَدِكَ إِلَى السَّمَاءِ یعنی اے عیسی ! میں تجھے وفات دوں گا پھر زندہ کروں گا، پھر تجھے تیرے جسم کے ساتھ آسمان کی طرف اٹھا لوں گا۔لیکن اب بجز مجر در افعال کے جو مُتَوَفِّيكَ کے بعد ہے کوئی دوسرا لفظ رَافِعُكَ کا تمام قرآن مجید میں نظر نہیں آتا۔جو ثُمَّ مُحْيِيكَ کے بعد ہو۔اگر کسی جگہ ہے تو وہ دکھلانا چاہئے۔فرمایا میں بدعوئی کہتا ہوں کہ اس ثبوت کے بعد کہ حضرت عیسی فی الحقیقت فوت ہو گئے تھے یقینی طور پر یہی مانا پڑے گا کہ جہاں جہاں رافِعُكَ يَابَلُ رَفَعَهُ الله الیہ ہے اس سے مراد ان کی روح کا اٹھایا جانا ہے۔جو ہر یک مومن کے لئے ضروری ہے۔ضروری کو چھوڑ کر غیر ضروری کا خیال دل میں لانا سراسر جہل ہے۔(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 235)