خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 305
خطبات مسرور جلد ہفتم 305 خطبہ جمعہ فرمودہ 3 جولائی 2009 کی طرف رفع لازمی ہے ( خدا تعالیٰ کی طرف رفع لازمی ہے) جس پر قرآن کریم اور احادیث صحیحہ ناطق ہیں۔(ان کی تصدیق کرتی ہیں بہت ساری)۔ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 606) یہ پہلے میں بیان کر دوں یہ جو حضرت مسیح موعود نے مثال بیان فرمائی قرآن کریم کی ایک اور آیت ارْجِعِتی اِلى رَبِّكِ کی یہ پوری آیت اس طرح سے ہے کہ اِرْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةٌ ( الفجر : 29) اور اس کا ترجمہ یہ ہے کہ اس سے راضی رہتے ہوئے اپنے رب کی طرف لوٹ آ۔اس سے راضی رہتے ہوئے اور اس کی رضا پاتے ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک دوسری جگہ اس کا مطلب بیان فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے مسیح کو موت دے کر پھر اپنی طرف اٹھا لیا۔جیسا کہ عام محاورہ ہے کہ نیک بندوں کی نسبت جب وہ مر جاتے ہیں یہی کہا جاتا ہے کہ فلاں بزرگ کو خدا تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا ہے۔جیسا کہ آیت ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ اس کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔خدا تعالیٰ تو ہر جگہ موجود اور حاضر ناظر ہے اور جسم اور جسمانی نہیں اور کوئی جہت نہیں رکھتا پھر کیونکر کہا جائے کہ جوشخص خدا تعالیٰ کی طرف اٹھایا گیا ضرور اس کا جسم آسمان میں پہنچ گیا ہوگا۔یہ بات کس قد رصداقت سے بعید ہے؟ راست باز لوگ روح اور روحانیت کی رو سے خدا تعالیٰ کی طرف اٹھائے جا سکتے ہیں نہ یہ کہ ان کا گوشت اور پوست اور ان کی ہڈیاں خدا تعالیٰ تک پہنچ جاتی ہیں۔(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 247-246) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو ہمیں علم کلام دیا ہے اسے مختلف ذریعوں سے سمجھانے کی کوشش کی ہے۔قرآن کریم کی آیات کی جو تفسیر فرمائی ہے وہ ایسی ہے کہ جب تک پاک دل ہو کر اس کو سمجھا نہ جائے غیروں کو سمجھ آ ہی نہیں سکتی۔بہر حال جس نے سمجھنا نہ ہو اور جس کو اللہ تعالیٰ بصیرت نہ عطا فرمائے اس کو وہ بہر حال سمجھ نہیں آئے گی۔جیسا کہ اس نے لکھا ہے سمجھ نہیں آ رہی مجھے۔اسی اقتباس کو جو پڑھ رہا تھا جاری رکھتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پھر فرماتے ہیں کہ پھر بعد اس کے جو خدا تعالیٰ نے حضرت عیسی کو فرمایا جو میں تجھے کفار کے الزاموں سے پاک کرنے والا ہوں یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہود چاہتے تھے کہ حضرت عیسی کو مصلوب کر کے اُس الزام کے نیچے داخل کریں جو توریت باب استثناء میں لکھا ہے جو مصلوب لعنتی اور خدا تعالیٰ کی رحمت سے بے نصیب ہے جو عزت کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف اٹھایا نہیں جاتا۔سوخدا تعالیٰ نے حضرت عیسی کو اس آیت میں بشارت دی کہ تو اپنی موت طبعی سے فوت ہوگا اور پھر عزت کے ساتھ میری طرف اٹھایا جائے گا اور جو تیرے مصلوب کرنے کے لئے ( تجھے صلیب دینے کے لئے ) تیرے دشمن کوشش کر رہے ہیں ان کوششوں میں وہ