خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 304 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 304

304 خطبہ جمعہ فرمودہ 3 جولائی 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِذْ قَالَ اللهُ يَعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهَّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ۔ثُمَّ إِلَى مَرْجِعُكُمْ فَاحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيْمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ (آل عمران : 56 ) اس کا ترجمہ ہے کہ جب اللہ نے کہا اے عیسی یقینا میں تجھے وفات دینے والا ہوں اور اپنی طرف تیرا رفع کرنے والا ہوں اور تجھے ان لوگوں سے نتھار کر الگ کرنے والا ہوں جو کافر ہوئے اور ان لوگوں کو جنہوں نے تیری پیروی کی ہے ان لوگوں پر جنہوں نے انکار کیا ہے قیامت کے دن تک بالا دست کرنے والا ہوں۔فوقیت دینے والا ہوں۔پھر میری طرف تمہارا لوٹ کر آنا ہے۔اس کے بعد میں تمہارے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کروں گا جس میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔یہ آل عمران کی آیت ہے۔پھر دوسری جگہ فرمایا وَ قَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ | وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ۔وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ مَالَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتَّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِيْنَا بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللهُ عَزِيزًا حَكِيمًا (النساء : 158-159) اور ان کے قول کے سبب سے کہ یقیناً مسیح عیسی بن مریم کو جواللہ کا رسول تھا قتل کر دیا ہے اور یقیناً اسے قتل نہیں کر سکے اور نہ اسے صلیب دے کر مار سکے بلکہ ان پر معاملہ مشتبہ کر دیا گیا اور یقیناً وہ لوگ جنہوں نے اس بارہ میں اختلاف کیا ہے اس کے متعلق شک میں مبتلا ہیں۔ان کے پاس اس کا کوئی علم نہیں، سوائے ظن کی پیروی کرنے کے اور وہ یقینی طور پر اسے قتل نہ کر سکے بلکہ اللہ نے اپنی طرف اس کا رفع کر لیا اور یقینا اللہ کامل غلبہ والا اور بہت حکمت والا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارہ میں فرماتے ہیں کہ : اس آیت میں خدا تعالیٰ نے ترتیب وار اپنے تئیں فاعل ٹھہرا کر چار فعل اپنے یکے بعد دیگرے بیان کئے ہیں۔( یعنی خدا تعالیٰ نے یہ کام کرنے والا ٹھہرایا ہے اور وہ کام کیا گئے ہیں۔وہ کون سے فعل تھے ؟ ) فرماتا ہے ”اے عیسی ! میں تجھے وفات دینے والا ہوں (پہلی بات یہ کہ میں وفات دینے والا ہوں، دوسری بات ) اپنی طرف اٹھانے والا ہوں ، ( تیسرے ) اور کفار کے الزاموں سے پاک کرنے والا ہوں اور ( چوتھی بات ) تیرے متبعین کو قیامت تک تیرے منکروں پر غلبہ دینے والا ہوں۔(یہ بھی بعد میں کسی وقت وضاحت کروں گا۔بعضوں کے ذہنوں میں اس کا بھی سوال اٹھتا ہے اور ظاہر ہے )۔فرماتے ہیں کہ: اور ظاہر ہے کہ یہ ہر چہار فقرے ترتیب طبعی سے بیان کئے گئے ہیں۔( جو ایک ترتیب ان کی ہونی چاہئے تھی اسی طرح بیان ہوئے ہیں )۔” کیونکہ اس میں شک نہیں کہ جو شخص خدائے تعالیٰ کی طرف بلایا جاوے اور ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ کی خبر اس کو پہنچ جائے پہلے اس کا وفات پایا جانا ضروری ہے پھر بموجب آیت کریمہ ارجعی إلى ربك اور حدیث صحیح کہ اس کا خدائے تعالیٰ کی طرف رفع ہوتا ہے اور وفات کے بعد مومن کی روح کا خدا تعالیٰ