خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 274 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 274

274 خطبه جمعه فرمود ه 12 جون 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم پس اس عہد کے ساتھ یہاں سے واپس جائیں کہ ہم نے پاک تبدیلیاں اپنے اندر پیدا کرنی ہیں ان کو زندگیوں کا حصہ بنانا ہے اور تقویٰ میں ترقی کرنی ہے۔اور اس کے حصول کے لئے جلسے کے یہ جو دن ہیں یہاں گزاریں۔ہمیشہ یا درکھنا چاہئے کہ ہماری ترقی تبلیغ کے ساتھ دعاؤں سے اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہی وابستہ ہے۔پس دعاؤں کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنا لیں۔دعاؤں پر زور دیں اور خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے آگے جھکیں۔تو آپ کی دعائیں آسمانوں میں ارتعاش پیدا کر کے وہ انقلاب لائیں گی جو اسلام اور مسلمانوں کے ہر مخالف کو حضرت محمد رسول اللہ لے کے قدموں میں لا ڈالے گی۔ہمیشہ یادرکھیں کہ مسیح و مہدی کا زمانہ تیر و تفنگ کا زمانہ نہیں ہے۔بلکہ دعاؤں سے انقلاب لانے کا زمانہ ہے اور یہی آنحضرت ﷺ کے الفاظ يَضَعُ الْحَرْبَ ( صحیح بخاری جلد اول صفحہ 490 کتاب احادیث الانبیاء باب نزول عیسی بن مریم۔مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی) سے ہم پر ثابت ہے۔اللہ تعالیٰ نے عربوں کو تبلیغ اور تقریر کا خاص ملکہ عطا فر مایا ہوا ہے اگر اپنے پاک نمونوں اور دعاؤں سے اسے سجاتے ہوئے استعمال میں لائیں گے تو اللہ تعالیٰ کے وسیع تر فضلوں کی بارش اپنے پر برستی دیکھیں گے اور احمدیت یعنی حقیقی اسلام کو عرب دنیا میں پھلتا پھولتا دیکھیں گے۔پس آج یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم عیسائیوں کی بھی حقیقی نجات کا باعث بنیں اور یہودیوں کو بھی ان کی تاریخ اور تعلیم کے حوالے سے صحیح راستے دکھانے کی کوشش کریں۔ان کو آنحضرت ﷺ کے قدموں میں لانے کی کوشش کرتے ہوئے ان کی بھلائی کے سامان کریں اور دوسرے مذاہب والوں کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے راستے دکھائیں اور خدا تعالیٰ کو نہ ماننے والوں کو بھی اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچانے کی کوشش کریں۔یہ بہت بڑا کام ہے جو دنیا کی اصلاح کے لئے مسیح محمدی کے ماننے والوں کے سپرد کیا گیا ہے۔پس اے کہا بیر! اور فلسطین کے رہنے والے احمد یو! اس وقت عرب دنیا میں تم سب سے منتظم جماعت ہو۔اٹھو اور اس زمانے کے امام کے مددگار بنتے ہوئے نَحْنُ اَنْصَارُ اللہ کا نعرہ لگاتے ہوئے اس کے پیغام کو ہر طبقہ تک پہنچانے کے لئے کمر بستہ ہو جاؤ۔آج مسلمانوں کی بھی نجات اسی میں ہے کہ امام الزمان کو مان لیں۔اگر آج عرب دنیا کے احمدیوں نے اپنی ذمہ داری کو سمجھ لیا تو سمجھ لو کہ جس طرح قرون اولیٰ کے عربوں نے اسلام کے پیغام کو پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا تھا اس زمانہ میں آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق اور غلام صادق کا پیغام پہنچانے میں اپنا کردار ادا کر کے تم بھی اُن آخرین میں شامل ہو جاؤ گے جو اؤ لین سے ملائے گئے۔اللہ تعالیٰ آپ کو بھی اور مجھے بھی اس ذمہ داری کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔اللہ تعالیٰ سب شاملین جلسہ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تمام دعاؤں کا وارث بنائے اور یہ جلسہ بے انتہا برکات سمیٹنے والا ثابت ہو اور ہم جلد تمام دنیا پر حضرت محمد رسول اللہ علیہ کے جھنڈے کو لہراتا ہوا دیکھیں۔آمین