خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 265 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 265

265 خطبہ جمعہ فرمود : 12 جون 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم کا اعزاز دے کر دنیا میں بھیجا۔آپ کی ابتدائی زندگی کا ہم جائزہ لیں تو ہمیں آپ کی زندگی میں بھی اپنے آقا و مطاع کی زندگی کے ابتدائی دور کی جھلکیاں نظر آتی ہیں اور اس کے بعد بھی ہرلمحہ یہی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔دنیا سے آپ کو کوئی سرور کار نہیں تھا۔اگر کوئی خواہش اور آرزو اور عمل تھا تو یہ کہ خدائے واحد کی عبادت میں مشغول رہوں۔اپنے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفی میں اللہ کے عشق و محبت میں مخمور رہتے ہوئے آپ پر درود و سلام بھیجتار ہوں اور اس عبادت اور آنحضرت ﷺ سے عشق کا نتیجہ تھا کہ آپ کو مسلمانوں کی دینی اور دنیاوی حالت زار بے چین کر دیتی تھی جس کے لئے آپ اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑاتے تھے۔اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو دنیا میں قائم کرنے کا جوش اور آنحضرت ﷺ کے ساتھ یہ عشق و محبت ہی تھا جس کی وجہ سے آپ اسلام کے دفاع کے لئے جہاں قرآن کریم کا گہرا مطالعہ فرماتے تھے وہاں دوسرے مذاہب کی کتب کا بھی مطالعہ کر کے قرآن کریم کی برتری ثابت کرنے کی کوشش میں لگے رہتے تھے اور جہاں بھی آپ کو موقع ملتا تھا اسلام کی برتری ثابت کرنے کی کوشش میں لگے رہتے تھے۔اور کوئی نام ونمود اور دنیا دکھا وا آپ کی جوانی کے دور میں بھی ہمیں نظر نہیں آتا۔اس کے غیر بھی گواہ ہیں اور اپنے بھی گواہ ہیں۔اللہ تعالیٰ جو عالم الغیب والشہادۃ ہے اس کو تو آپ کے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ عشق و وفا اور دین اسلام کے لئے دلی درد کی کیفیت کا بخوبی علم تھا۔اس نے آپ کو کہا کہ گوشہ تنہائی سے باہر نکلو اور صرف انکار کا لوگوں سے اسلام کی برتری کی باتیں نہ کرو۔صرف اپنے حلقے میں مسلمانوں کی حالت زار بدلنے کی کوشش نہ کرو۔صرف تحریر سے ہی یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔بلکہ دنیا میں یہ اعلان کر دو کہ آنے والا مسیح و مہدی آچکا اوراللہ تعالیٰ سے اطلاع پا کر میں تمہیں بتا تا ہوں کہ وہ مسیح و مہدی میں ہوں۔آپ کا یہ اعلان کرنا تھا کہ آپ کی مخالفت کا وہ طوفان برپا ہوا جس نے ایک وقت میں قادیان میں آپ کے لئے ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ آپ قادیان سے ہجرت کا سوچنے لگے۔آپ کے مریدوں میں سے بعض مخلصین نے اپنے اپنے علاقوں میں آپ کو رہنے کی دعوت دی اور آپ کی حفاظت کی ذمہ داری بھی قبول کی۔لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ نوبت نہیں آئی۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے 1882ء میں جب آپ اسلام کے دفاع کے لئے براہین احمدیہ لکھ رہے تھے تو یہ تسلی دلا دی تھی کہ حالات جو ہیں وہ آپ کے حق میں ہوں گے۔عربی الہام کی ایک لمبی عبارت ہے اس کو آپ نے براہین احمدیہ میں درج بھی فرمایا ہے۔اس کا کچھ حصہ جو آپ نے اپنی کتاب سراج منیر میں درج فرمایا ہے وہ میں پیش کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں: ”یہ پیشگوئی براہین کے صفحہ 242 میں مرقوم ہے ” إِنِّي رَافِعُكَ إِلَيَّ وَالْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةٌ مِّنِي وَبَشِّرِ الَّذِينَ امَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِندَ رَبِّهِمْ۔وَاتْلُ عَلَيْهِمْ مَّا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنْ ربِّكَ وَلَا تُصَعِرِ لِخَلْقِ اللهِ وَلَا تَسْتَمُ مِّنَ النَّاسِ - (سراج منیر روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 73)