خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 246
246 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرموده 29 مئی 2009 کی جنتوں میں جاؤ اور نیک جزا میں بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وسعت کس حد تک ہے؟ فرمایا کہ کسی بھی گناہ کا بدلہ اسی قدر ہے جتنا گناہ ہے اور نیکی کا بدلہ دس گنا اور اس سے بھی زیادہ اللہ تعالیٰ فرماتا چلا جاتا ہے۔پس خدا تعالیٰ جو تعلیم بھی انبیاء کے ذریعہ سے دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے ان کی استعدادوں کے مطابق ہے۔اگر پہلی قوموں کی ذہنی صلاحیتیں کم تھیں تو ان کے سامنے ان کی تعلیم بھی اس کے مطابق رکھی۔اسی حوالے سے جو میں نے بتایا۔ایمان کا جہاں ذکر ہوا، اسی مجلس میں فرشتہ نے ، جبریل آئے تھے ، ارکان اسلام کا بھی ذکر کیا کہ پوچھا کہ کیا ہے اسلام کیا ہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کلمہ طیبہ لا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله - پھر نماز کے بارہ میں پوچھا آپ نے فرمایا نماز ہے۔پھر روزہ ہے، پھر زکوۃ ہے، پھر حج ہے۔( صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان الایمان والا سلام والاحسان۔۔۔۔۔حدیث نمبر 8 یہ نماز جو عبادت ہے، روزہ جو عبادت ہے، اس کے لئے بھی کسی کو مکلف نہیں کیا۔بلکہ اگر کوئی بیمار ہے تو اس کو بیٹھ کر یا لیٹ کر بھی نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔اگر سفر میں ہے تو جمع کرنے اور قصر کرنے کی اجازت ہے۔اور روزہ ہے اس طرح ہی۔سفر میں نہ رکھنے کی اجازت ہے ، نہ رکھو، فرض روزے نہیں ہیں۔بیماری میں نہ رکھنے کی اجازت ہے۔زکوۃ ہے وہ صرف اُسی پر فرض ہے جو صاحب نصاب ہے۔حج ہے تو اُسی پر فرض ہے جو رستے کے وسائل بھی رکھتا ہو اور امن بھی ہو صحت بھی ہو۔تو ساری چیزیں اللہ تعالیٰ نے جو فرمائیں وہ انسان کی طاقت کے اندر رہتے ہوئے اس کا حکم ہے اس کے لئے اور جیسا کہ میں نے کہا ہر طبقہ نے ان باتوں پر عمل بھی کر کے دکھایا۔قطع نظر ان کے جو مسلمان عمل نہیں کرتے کروڑہا مسلمان ایسے گزرے ہیں جو اس پر عمل کرتے ہیں عمل کر کے دکھا رہے ہیں۔تیسری بات جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمائی اس حوالے سے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا عمل اور نمونہ تمہارے لئے اسوہ حسنہ ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِى رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الاحزاب : 22) یقینا تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کے رسول میں اُسوہ حسنہ ہے۔فرمایا کہ ہمیں حکم ہے کہ تمام احکام میں ، اخلاق میں ، عبادات میں آنحضرت ﷺ کی پیروی کریں۔پس اگر ہماری فطرت کو وہ قو تیں نہ دی جاتیں جو آنحضرت ﷺ کے تمام کمالات کو ظلمی طور پر حاصل کر سکتیں تو یہ حکم ہمیں ہرگز نہ ہوتا کہ اس بزرگ نبی کی پیروی کرو کیونکہ خدا تعالیٰ فوق الطاقت کوئی تکلیف نہیں دیتا۔جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا 66 (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 156 ) پس یہاں یہ فرمایا کہ تم اس نبی کی پیروی کرو۔جس کی وضاحت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس لفظ سے کی کہ ظلمی طور پر۔یعنی وہ معیار جو تم حاصل نہیں کر سکتے لیکن اپنی اپنی استعدادوں کے مطابق ان پر عمل کرنے اور ان کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے اس کے لئے کوشش کرو اور یہ ہر مومن پر فرض ہے۔کیونکہ یہ صلاحیت ایک مومن