خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 245 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 245

245 خطبہ جمعہ فرمودہ 29 مئی 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم ایمان کی حالت کے بارے میں عقیدہ کے بارہ میں کہ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ (البقرة: 286) یعنی اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اس کے فرشتوں پر ایمان رکھتے ہیں، اس کی کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں اور ایک دوسری جگہ فرمایا کہ یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔اس بارہ میں ایک حدیث بھی ہے جو حضرت عمرؓ سے مروی ہے کہ ہم آنحضرت ﷺ کے حضور بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ کے پاس ایک آدمی آیا جس کے کپڑے بہت سفید تھے اس نے آکے مختلف سوال کئے اور آنحضرت لیے کے ساتھ آیا اور گھٹنے ملا کر بیٹھ گیا اور پھر سوال کئے اور عرض کیا کہ اے محمد ایمان کسے کہتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ایمان یہ ہے کہ تو اللہ پر اس کے فرشتوں پر اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور یوم آخرت کو مانے اور خیر اور شر کی تقدیر پر یقین رکھے۔( صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان الایمان والاسلام والاحسان۔۔۔حدیث نمبر 8) اب یہ باتیں ایسی ہیں کہ جن کے ماننے میں کوئی تکلیف مالا يطاق نہیں۔اگر فطرت نیک ہو، اللہ تعالیٰ کی تلاش ہو، تو کائنات کیا زمین پر ہی اللہ تعالیٰ کی پیدائش کے مختلف نظارے ہیں، اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان اور یقین پیدا کرتے ہیں۔اور پھر اس کارخانہ قدرت کو دیکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے رستے پر چلتے ہوئے ملا ئکتہ اللہ پر انسان غور کرتا ہے۔تمام نظام کائنات کو دیکھتا ہے اور غور کرتا ہے تو فرشتوں کی حقیقت بھی اپنی اپنی استعداد ذہنی اور علمی کے مطابق ہر انسان پر پھلتی چلی جاتی ہے۔پھر خدا کے انبیاء پر جو کتابیں اتریں ان پر مُبر جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں قرآن کریم نے ثبت کی۔اُن کی غلطیوں اور خامیوں اور تحریفوں کی نشاندہی کی۔ان کی بعض تعلیمات کی تصدیق کی بعض کی تردید کی۔اور قرآن کریم کی تصدیق اور اس کی حفاظت کا اعلان کر کے اور آج تک یہ ثابت کر کے کہ اس میں کوئی تحریف اور تبدیلی نہیں ہوئی اور نہ ہو سکتی ہے اس پر ایمان میں پختگی پیدا کرنے کا اعلان فرمایا۔اور جو تعلیم اس میں دی ، قرآن کریم میں ، اس کے متعلق یہ اعلان فرما دیا کہ اس میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس پر عمل انسانی استعداد سے بالا ہو۔کیونکہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ سے لے کر آج تک کروڑ ہا مسلمانوں نے اپنی اپنی استعدادوں کے مطابق اس پر عمل کر کے دکھایا۔پھر رسولوں پر ایمان ہے۔اگر یہ انکار کیا گیا رسولوں کا تو ان قوموں کی بد قسمتی تھی لیکن اُن کی تعلیم اور اُن کے دعوے کبھی ایسے نہیں ہوئے جو کسی انسان کو تکلیف میں ڈالیں۔ہر نبی نے یہی کہا کہ میں تمہیں خدا سے ملانے اور تمہارے فائدے کی تعلیم دینے کے لئے آیا ہوں۔اس طرح پر ، اور اس کے لئے میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔میرا اجر خدا کے پاس ہے۔میرا مقصد تمہیں تکلیف پہنچانا نہیں بلکہ تمہاری بھلائی ہے اور اس لئے کہ تم یوم آخرت پر یقین کرو اور جزا سزا کی تقدیر پر ایمان لاتے ہوئے خدا تعالیٰ کی جناب سے نیک اعمال کر کے جزا حاصل کرو۔اس کی رضا