خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 236
236 خطبہ جمعہ فرموده 22 مئی 2009 خطبات مسرور جلد هفتم سورۃ فاطر کی آیت جس کے ایک حصے کا میں نے ذکر کیا ہے کہ وَمَنْ تَزَكَّى فَإِنَّمَا يَتَزَكَّى لِنَفْسِه که جو بھی پاکیزگی اختیار کرے تو وہ اپنے نفس کی خاطر پاکیزگی اختیار کرتا ہے۔یہ پوری مکمل آیت یوں ہے کہ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخرى۔وَإِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلُ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَاقُرُبَي إِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمُ بِالْغَيْبِ وَ اَقَامُوا الصَّلوةَ۔وَمَنْ تَزَكَّى فَإِنَّمَا يَتَزَكَّى لِنَفْسِهِ۔وَإِلَى اللهِ الْمَصِيرُ (الفاطر: 19) اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان کسی دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گی اور اگر کوئی بوجھ سے لدی ہوئی اپنے بوجھ کی طرف بلائے گی تو اس کے بوجھ میں سے کچھ بھی نہ اٹھایا جائے گا۔خواہ وہ قریبی ہی کیوں نہ ہو۔یہ آخرت کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔آگے جو مضمون اس آیت سے متعلقہ ہے وہ یہ ہے کہ تو صرف ان لوگوں کو ڈرا سکتا ہے جو اپنے رب سے اس کے غیب میں ہونے کے باوجود ترساں رہتے ہیں اور نماز کو قائم کرتے ہیں اور جو بھی پاکیزگی اختیار کرے وہ اپنے نفس کی خاطر پاکیزگی اختیار کرتا ہے اور اللہ کی طرف ہی آخری ٹھکانہ ہے۔یہاں یہ واضح ہو گیا کہ نفس کی پاکیزگی صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ (الانبياء : 50 ) یعنی جو اپنے رب سے غیب میں ہونے کے باوجود ڈرتے ہیں۔پس جب یہ حالت ہوتی ہے تو ان کی نمازیں بھی اور دوسری عبادتیں بھی اور دوسرے نیک اعمال بھی دل میں خدا تعالیٰ کا خوف رکھتے ہوئے اس کی رضا کے حصول کے لئے ہوتے ہیں اور جب یہ حالت ہو، جب اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں ہو تو وہ انسان خود اپنے نفس کو پھر کبھی پاک نہیں ٹھہراسکتا بلکہ ہر نیکی کو جو وہ بجالاتا ہے اور ہر اس موقع کو جو نیکی بجالانے کا اس کو میسر آتا ہے خدا تعالیٰ کے فضل پر محمول کرتا ہے۔پس جو اس حالت میں اپنے نفس کا جائزہ لیتے ہوئے اُسے پاک کرنے کی کوشش کرے اور پاک کرنے کی کوشش کرتے ہوئے تقویٰ پر چلتا ہے وہی اللہ تعالیٰ کی نظر میں مُرشحی ہے اور فلاح پایا ہوا ہے۔اگر نیکیوں کو اپنی کسی خوبی کی طرف منسوب کرے گا تو وہ تزکیہ نفس نہیں ہے۔پس ایک مومن ہر وقت اللہ تعالیٰ کا خوف لئے ہوئے ان نیکیوں کی تلاش میں رہتا ہے تا کہ انہیں کر کے ، انہیں بجالا کر، اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرے۔بلکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم ان گناہوں سے بچنے کی کوشش کرو گے تو خدا تعالیٰ خود تمہاری بدیاں دور کر دے گا اور تمہیں عزت والے مقام میں داخل کرے گا۔جیسا کہ فرماتا ہے اِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرُ عَنْكُمْ سَيَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُدْخَلا كَرِيمًا ( النساء:32) اگر تم بڑے گناہوں سے بچتے رہو جن سے تمہیں روکا گیا ہے تو ہم تمہارے سے تمہاری بدیاں دُور کر دیں گے اور نہ صرف بدیاں دُور کر دیں گے بلکہ تمہیں عزت کے مقام میں داخل کریں گے۔میں پہلے بھی ایک دفعہ بتا چکا ہوں کہ قرآن کریم میں بڑے گناہ کے الفاظ تو آئے ہیں۔لیکن بڑے اور چھوٹے گناہوں کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔ہر وہ گناہ جس کو چھوڑ نا انسان پر بھاری ہو اس کے لئے بڑا گناہ ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے کچھ کی تو واضح طور پر نشاندہی کر دی کہ یہ گناہ ہیں۔لیکن اس کے علاوہ بھی ہر گناہ جس کو انسان معمولی سمجھتا ہو اگر اس کو چھوڑ نا انسان پر بھاری ہے تو وہ بڑے گناہ کے زمرے میں شمار ہو گا۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا