خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 235
235 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 22 مئی 2009 تعالیٰ جو وسیع بخشش والا ہے، بخشنے والا ہے اور تو بہ قبول کرنے والا ہے، وہ توبہ قبول کرتا ہے۔پس یہ حالت پیدا کرنے کی ضرورت ہے جو حقیقی تقوی کی طرف لے جاتی ہے۔ورنہ انسان تو ذراسی نیکی پر ہی فخر کر کے اپنے آپ کو پاک صاف سمجھنے لگتا ہے۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ تم کبھی یہ دعوی نہ کرو کہ میں پاک صاف ہوں۔پاک ہونا اور تقویٰ پر چلنے کا علم صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو ہے۔پس اس کے آگے جھکنے کی ضرورت ہے۔اس مضمون کی مزید وضاحت فرماتے ہوئے ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جو یہ فرمایا ہے کہ فَلا تُرَكُوا أَنْفُسَكُم تو اس آیت کا صحیح مطلب جانے کے لئے تمہیں تزکیہ نفس اور اظہار نعمت کے درمیان واضح فرق معلوم ہونا چاہئے۔اگر چہ یہ دونوں صورت کے لحاظ سے مشابہ ہیں۔پس جب تم کمال کو اپنے نفس کی طرف منسوب کرو اور تم سمجھو کہ گویا تم بھی کوئی حیثیت رکھتے ہو اور تم اپنے اس خالق کو بھول جاؤ جس نے تم پر احسان کیا تو تمہارا یہ فعل تزکیہ نفس قرار پائے گا۔لیکن اگر تم اپنے کمال کو اپنے رب کی طرف منسوب کرو اور تم یہ سمجھو کہ ہر نعمت اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہے اور اپنے کمال کو دیکھتے وقت تم اپنے نفس کو نہ دیکھو بلکہ تم ہر طرف اللہ تعالیٰ کی قوت، اس کی طاقت، اس کا احسان اور اس کا فضل دیکھو اور اپنے آپ کو غستال کے ہاتھ میں محض ایک مُردہ کی طرح پاؤ اور اپنے نفس کی طرف کوئی کمال منسوب نہ کرو تو یہ اظہار نعمت ہے“۔( ترجمه عربی عبارت از حمامة البشرکی۔روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 321-322 یہ اقتباس حضرت مسیح موعود کی عربی کی ایک کتاب ہے حمامتہ البشریٰ اس میں سے لیا گیا ہے، اس کا ترجمہ ہے۔تو یہ ایک باریک فرق ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ظاہر فرمایا۔ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَنْ تَزَكَّى فَإِنَّمَا يَتَزَكَّى لِنَفْسِهِ (الفاطر: 19) یعنی جو بھی پاک ہوتا ہے وہ اپنے نفس کے لئے پاک ہوتا ہے۔پھر ایک جگہ فرمایا سورۃ اعلیٰ میں جو ہم ہر جمع کو نماز میں پڑھتے ہیں کہ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى ( الاعلیٰ : 15) یعنی جو پاک بنے گاوہ کامیاب ہو گیا۔پھر ایک جگہ فرمایا قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا (الشمس: 10) که یقینا وہ کامیاب ہو گیا جس نے اسے پاک کیا یعنی اپنے نفس کو پاک کیا۔- اب ان آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہاری کامیابی تمہارے تزکیہ نفس میں ہے۔ان آیات میں اور سورہ نجم کی جو آیت میں نے تلاوت کی ہے اور جس کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وضاحت فرمائی ہے۔ان آیات میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔بلکہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ ایک باریک فرق ہے جس کو ہمیشہ یاد رکھو کہ تزکیہ نفس کا حکم تو ہے اس کے لئے کوشش کرو لیکن یہ کوشش کر کے تم دعوی نہیں کر سکتے کہ میں پاک ہو گیا یا میرے عمل ایسے ہیں کہ جن کے کرنے کے بعد اب میں پاک ٹھہرایا جا سکتا ہوں۔