خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 234 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 234

234 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 22 مئی 2009 صلاحیتوں اور استعدادوں کے ساتھ پیدا ہو گے اور کن ڈوروں سے پیدا ہونے کے بعد گزرتے ہوئے اپنی زندگی کی منزلیں طے کرو گے۔لیکن عالم الغیب ہونے کے باوجود اس نے بندوں کے سامنے نیک اور بداعمال کا ماحول میسر فرما دیا۔جو نیک اعمال کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والا بنے گا۔جو بد اعمال کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ کے نیچے آ سکتا ہے۔اور نیک اعمال کیا ہیں؟ یہ وہ اعمال ہیں جو خالص ہو کر خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے بجالانے کی کوشش کی جاتی ہے اس لئے فرمایا کہ جب تم نیک کام کرتے ہو تو اس وقت بھی بعض دفعہ دل میں خود پسندی پیدا ہو سکتی ہے۔اس لئے کام کرنے کے باوجود بھی یہ فیصلہ کرنا تمہارا کام نہیں ہے کہ ہم نیک اعمال بجالانے والے ہیں۔بلکہ نیک اعمال بجالا نا کس نیت سے ہے۔اگر نیک نیت سے ہے تو وہ نیک نیت اصل میں اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے والی بنے گی۔یہ اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ کس نیت سے نیک اعمال بجالائے جا رہے ہیں۔اس لئے اللہ فرماتا ہے کہ کسی نیکی پر اترانے کی بجائے ہر نیک عمل عاجزی اور تقویٰ میں اور بھی زیادہ بڑھانے والا ہونا چاہئے۔اور فرمایا کہ تقویٰ پر قائم ہو جانے کی سند نہ تو انسان خود اپنے آپ کو دے سکتا ہے نہ کسی بندے کا کام ہے کہ کسی دوسرے کو تقویٰ کی سند عطا کرے بلکہ یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے۔اللہ ہی ہے جو سب سے زیادہ جانتا ہے کہ متقی کون ہے۔یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آیت کے شروع میں ہی جو یہ فرمایا کہ الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَيْرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللَّمَم کہ وہ لوگ جو بڑے گنا ہوں اور فواحش سے سوائے سرسری لغزش کے بچتے ہیں۔لَمم کا مطلب کیا ہے؟ اس کو بھی یہاں واضح کرنے کی ضرورت ہے۔یہاں بعض لوگ میں نے دیکھے ہیں کہ اپنی غرض کا مطلب نکال لیتے ہیں۔اس کا کوئی یہ مطلب نہ سمجھے کہ بڑے گناہ اور فواحش اگر تھوڑے بہت ہو جائیں تو کوئی حرج نہیں۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کیونکہ کمزور ہے بعض حالات میں لاشعوری طور پر بعض گناہ سرزد ہو جاتے ہیں۔اگر ایسی صورت پیدا ہو جائے تو پھر حقیقی پچھتاوا ہونا چاہئے اور اس کے لئے بہت زیادہ استغفار کی ضرورت ہے۔لَمَم کا مطلب ہے کہ برائی کی طرف جھکنے کا موقع ملایا عارضی اور معمولی لغزش یعنی اگر غلطی ہوگئی ہے تو یہ معمولی نوعیت کی ہو اور اس پر دوام نہ ہو بلکہ یہ عارضی ہو۔اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ شیطانی خیال اگر دماغ میں اچانک اُبھر بھی آئیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے انسان اس سے بچ جائے اور اُس کے ذہن پر اس شیطانی خیال کا کوئی اثر قائم نہ رہے۔تو یہ حکم انسانی فطرت کے مطابق ہے کیونکہ اچھائی یا برائی کو قبول کرنے کی انسان کو آزادی دی گئی ہے اور معاشرے میں یہ برائیاں اپنی طرف مبذول کروانے کی کوشش بھی کر رہی ہیں۔ہر طرف آزادی نظر آتی ہے۔بے حیائی نظر آتی ہے۔بداخلاقیاں پھیلی ہوئی ہیں۔اس وجہ سے اگر کبھی کسی برائی کی طرف توجہ ہو بھی جائے تو فوری طور پر استغفار سے انسان اپنے آپ کو ان گناہوں سے بچانے کی کوشش کرے تو اللہ تعالیٰ کی جو وسیع بخشش ہے، اللہ