خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 225
خطبات مسرور جلد ہفتم 225 خطبہ جمعہ فرموده 15 مئی 2009 ادائیگی ہے۔اگر آمد ہی اتنی نہیں کہ گھر چلا سکو تو پھر ایک اور شادی کا بوجھ اٹھا کر پہلی بیوی بچوں کے حقوق چھینے والی بات ہوگی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو ایک جگہ فرمایا ہے کہ اگر مجبوری کی وجہ سے دوسری شادی کرنی ہی پڑے تو پھر اس صورت میں پہلی بیوی کا پہلے سے بڑھ کر خیال رکھو۔(ماخوذ از ملفوظات جلد سوم صفحہ 430 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) لیکن عملاً جو آج کل ہمیں معاشرے میں نظر آتا ہے پہلی بیوی اور بچوں کے حقوق کی ادائیگی کی طرف سے آہستہ آہستہ بالکل آنکھیں بند کر لی جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف عمل کر رہے ہوتے ہیں۔پس یہ جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ مالی کشائش اور دوسرے حقوق کی ادائیگی میں بے انصافی تو نہیں ہوگی ؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ہمارے نزدیک یہی بہتر ہے کہ انسان اپنے تئیں ابتلاء میں نہ ڈالے۔دوسری شادی کر کے۔احکام جلد 2 نمبر 2 مؤرخہ 6 مارچ 1898 صفحہ 2) پس بیوی کے حقوق کی ادائیگی اتنی بڑی ذمہ داری ہے کہ انہیں ادانہ کر کے انسان ابتلاء میں پڑ جاتا ہے یا پڑ سکتا ہے اور خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا مورد بن جاتا ہے۔میں نے آنحضرت ﷺ کی ایک دعا کا ذکر کیا تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا عرض کرتے تھے کہ میں ظاہری طور پر تو ہر ایک کے حق ادا کرنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن کسی بیوی کی کسی خوبی کی وجہ سے بعض باتوں کا اظہار ہو جائے جو میرے اختیار میں نہیں تو ایسی صورت میں مجھے معاف فرما۔اور یہ ایک ایسی بات ہے جو انسانی فطرت کے عین مطابق ہے اور خدا تعالیٰ جس نے انسان کو پیدا کیا اور پھر ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت بھی دی، جو بندے کے دل کا حال بھی جانتا ہے جس کی پاتال تک سے وہ واقف ہے ، غیب کا علم رکھتا ہے۔اس نے اس بارہ میں قرآن کریم میں واضح فرما دیا ہے کہ ایسی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے کہ بعض حالات کی وجہ سے تم کسی طرف زیادہ جھکاؤ کر جاؤ۔تو ایسی صورت میں یہ بہر حال ضروری ہے کہ جو اس کے ظاہری حقوق ہیں، وہ مکمل طور پر ادا کر و۔جیسا کہ سورۃ نساء میں فرماتا ہے کہ وَلَنْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ وَلَوْ حَرَصْتُمُ فَلا تَمِيلُوا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوهَا كَالْمُعَلَّقَةِ وَإِنْ تُصْلِحُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا۔( النساء: 130) اور اب تم یہ توفیق نہیں پا سکو گے کہ عورتوں کے درمیان کامل عدل کا معاملہ کرو خواہ تم کتنا ہی چا ہو۔اس لئے یہ تو کرو کہ کسی ایک کی طرف کلیہ نہ جھک جاؤ کہ اس دوسری کو گویا لٹکتا ہوا چھوڑ دو۔اگر تم اصلاح کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو یقینا اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔