خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 218
218 خطبات مسرور جلد هفتم خطبہ جمعہ فرموده 8 مئی 2009 ذمہ خدا تعالیٰ نے ان صفات کو انسانوں پر جاری کرنے کے لئے لگایا ہے۔ہر فرشتہ جس کے ذمہ متعلقہ صفت ہے خدا تعالیٰ سے اس صفت کے حوالے سے دعا کرتا ہے۔ان لوگوں کے لئے بخشش طلب کرتا ہے جو ایمان لانے کے بعد پھر اس کوشش میں ہیں کہ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کریں اور ہمیشہ تو بہ کرتے ہوئے اور نیک اعمال بجالاتے ہوئے اس قرب کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے چلے جائیں اور شیطان کے حملوں سے بچے رہیں۔اسی طرح جوان فرشتوں کے ماتحت فرشتے ہیں، اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کا جو نظام ہے اس میں ماتحت فرشتے بھی ہیں ان صفات کو جو فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں ان کے نیچے جو کام کر رہے ہیں وہ بھی ان بندوں کے لئے بخشش طلب کر رہے ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں گویا کہ خدا تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کے اعمال کو زیادہ سے زیادہ اجر دینے کے لئے اپنے فرشتوں کے نظام کو بھی متحرک کیا ہوا ہے کہ میرے ان بندوں کے لئے بخشش طلب کرتے رہو جس سے جہاں ان کے اجر بڑھتے رہیں گے وہاں ان کو ان فرشتوں کی بخشش مانگنے کی وجہ سے ہمیشہ نیک اعمال اور توبہ کی توفیق بھی ملتی رہے گی۔بندہ جو ہے لغزشوں اور غلطیوں سے پُر ہے۔اگر لغزشیں ہوتی رہیں اور کہیں غلطی سے عارضی ٹھوکر لگ جائے ، جان بوجھ کر انسان غلطیاں نہ کرتا چلا جائے تو یہ فرشتے اللہ تعالی کو اس کی رحمت کا واسطہ دے کر کہتے ہیں اور ساتھ ہی اس کے علم کا واسطہ دے کر کہتے ہیں جو بے کنارہے ، جس کی کوئی حدیں نہیں ہیں کہ انہیں بخش دے اور آئندہ بھی یہ لوگ تیری پیروی کرتے ہوئے تیری بخشش سے حصہ لیتے رہیں۔یہاں رحمت کا ذکر پہلے کر کے بخشش کی دعا کی ہے کہ بخشش تو تیری رحمت سے ہوتی ہے۔پس اپنی وسیع رحمت کو جاری کرتے ہوئے بخشش کے سامان کرتا رہ۔بے شک تیرا علم وسیع ہے جو انسان کے، ان لوگوں کے دلوں میں ہے، وہ بھی تجھے علم ہے۔اور آج اس نیک کام کے بعد آئندہ جو عمل ہونے ہیں ان کے بارے میں بھی فرشتے کہتے ہیں اے خدا ان کا تجھے بھی علم ہے۔تو ان کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور ہوسکتا ہے کہ تیرے علم میں ہو کہ یہ بگڑ جانے والے ہیں اور جہنم کا ایندھن بننے والے ہیں لیکن اپنی رحمت کو پھیلاتے ہوئے ان کے نیک اعمال کو دائگی کر دے تا کہ یہ ہمیشہ نیکیوں کی طرف ہی مائل رہیں اور جہنم کی آگ سے بچے رہیں اور اگر تیری رحمت ہوگی تو ان کو یہ توفیق بھی ملتی رہے گی۔پس یہ ہے ہمارا رحمن خدا اور غفور و رحیم خدا جو انسان کی بخشش کے سامان کرنے اور اسے نیکیوں پر قائم رکھنے کے لئے ہر ذریعہ استعمال کرتا ہے۔ایک گناہ ہو تو اس گناہ کی اس کو اتنی سزا ملتی ہے لیکن ایک انسان اگر نیکی کرتا ہے تو دس گنا اجر ملتا ہے۔قربانیوں کا معاملہ آیا تو فرمایا کہ اس قربانی کا سات سو گنا اجر ہے۔پھر فرمایا کہ اس سے بھی بڑھ کر ہو سکتا ہے۔کیونکہ واسع خدا ہے اس کے اجر کی کوئی انتہا نہیں۔لیکن پھر بھی انسان کتنا نا شکرا ہے کہ اس رحمن اور رحیم خدا کو چھوڑ کر جس کے اجر کی وسعت کی کوئی انتہا نہیں شیطان کے بہکاوے میں آ کر جو عارضی لذت ہے اس کی طرف پکتا ہے۔