خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 214 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 214

214 خطبہ جمعہ فرموده 8 مئی 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم گزشتہ دنوں میں الفضل میں ایک مضمون دیکھ رہا تھا۔مالی قربانی پر کسی لکھنے والے نے لکھا۔ربوہ میں کسی احمدی کا واقعہ تھا کہ وہ صاحب گوشت کی دکان پر کھڑے گوشت خرید رہے تھے۔وہاں سے سیکرٹری مال کا سائیکل پر گزرہوا تو اس شخص کو دیکھ کر جوسود خرید رہا تھا، سیکرٹری مال صاحب وہاں رک گئے اور صرف یاد دہانی کے لئے بتایا کہ آپ کا فلاں چندہ بقایا ہے۔تو اس شخص نے پوچھا کہ کتنا بقایا ہے؟ جب سیکرٹری مال نے بتایا تو وہ کافی رقم تھی۔تو انہوں نے وہیں کھڑے کھڑے وہ سیکرٹری مال کو ادا کر دی اور رسید لے لی۔اور قصائی سے جو گوشت خریدا تھاوہ اس کو واپس کر دیا کہ آج ہم گوشت نہیں کھا سکتے۔سادہ کھانا کھائیں گے۔تو یہ ایسے بندے ہیں جو شیطان کے بہکاوے میں نہیں آتے جب وہ کہتا ہے کہ یہ کیا کر رہے ہو، تمہارے بچے ہیں ان کا آج گوشت کھانے کو دل چاہ رہا ہے اور تم اس سے اُن کو محروم رکھ رہے ہو؟ اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ میں ایسے لوگوں کی یہ ایک نہیں سینکڑوں مثالیں ہیں جو صرف گوشت ہی نہیں چھوڑتے بلکہ بعض دفعہ مالی قربانی کی خاطر فاقے بھی کر لیتے ہیں لیکن مالی قربانی سے پیچھے نہیں ہٹتے۔پھر جان کی قربانی ہے۔جماعت احمدیہ کی تاریخ ان قربانیوں سے بھی بھری پڑی ہے۔پاکستان میں تو آج کل عام آدمی کی بھی سینکڑوں موتیں ہوتی ہیں اور کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ کون اچانک گولی کا نشانہ بن جائے۔لیکن احمدی جو قربانیاں دیتے ہیں انہیں علم ہوتا ہے کہ اس فعل سے، یہ کام کرنے سے ، اس علاقہ میں رہنے سے یا ان رستوں پر گزرنے سے قوی امکانات ہیں کہ کسی وقت بھی موت واقعہ ہو جائے اور احمدی ہونے کی وجہ سے ہو جائے لیکن خدا کی خاطر یہ قربانیاں دیتے چلے جاتے ہیں۔جماعت احمدیہ کی تاریخ میں سید الشہداء حضرت سید عبداللطیف شہید کی قربانی ہے، مولوی عبد الرحمن کی قربانی ہے جو کابل میں ہوئی اور جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں تھی۔ان قربانیوں نے دنیا کو دکھایا کہ یہ عبدالرحمن ہوتے ہیں جو ایک مقصد کی خاطر خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر جان قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے اور اس قسم کی قربانیوں کے بھی احمدیوں کی زندگیوں میں درجنوں واقعات ہیں کہ اچانک حملوں کے نتیجہ میں انہوں نے قربانیاں نہیں کیں اور شہادتیں حاصل نہیں کیں بلکہ سینہ تان کر اپنے دین پر قائم رہتے ہوئے ان قربانیوں کے نظارے پیش کئے اور اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔بہر حال شیطان کے بارہ میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ تمہیں قربانی کرنے سے ڈراتا ہے۔کبھی یہ کہہ کر کہ غربت کا کا شکار ہو جاؤ گے۔کبھی یہ کہہ کر کہ تمہاری اس قربانی سے تمہاری اولا دیں بھی کسی قابل نہیں رہیں گی۔جب جان کی قربانی سے ڈراتا ہے تو پیچھے اولادوں کا خوف دلاتا ہے کہ ان کا کیا حال ہو گا ؟ آج اس زمانہ میں معیشت کو بھی ریڑھ کی ہڈی کا نام دیا جاتا ہے۔تو قربانی کرنے والوں کو جو جان، مال اور وقت کی قربانی کرتے ہیں، اپنے اور اپنے